جامشورو گیس پلانٹ کی بحالی، پاکستان کو سالانہ 200 ملین ڈالر کی بچت متوقع
- پلانٹ کی طویل بندش کے باعث ملک تقریباً 317,000 ٹن مقامی طور پر تیار کردہ ایل پی جی سے محروم رہا
اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے تقریباً پانچ سال سے بند جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) گیس پروسیسنگ پلانٹ کی بحالی کے بعد پاکستان کو سالانہ تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے۔
جے جے وی ایل کی بحالی کو قومی اہمیت کے حامل تعطل کا شکار منصوبوں کی بحالی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایس آئی ایف سی کی کوششوں کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے پہلے گیس پروسیسنگ پلانٹ، جو مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) نکالنے کے لیے جدید اورٹلوف ٹیکنالوجی سے لیس ہے، نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے، جس سے ملک کی توانائی سلامتی اور اقتصادی بحالی کو تقویت ملے گی۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق پلانٹ کی طویل بندش کے باعث ملک تقریباً 317,000 ٹن مقامی طور پر تیار کردہ ایل پی جی سے محروم رہا جبکہ معیشت کو اندازاً 94 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پلانٹ کی بندش نے درآمدی توانائی مصنوعات پر انحصار بھی بڑھایا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پڑا۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ایس آئی ایف سی نے 2024 میں مختلف متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطوں کے ذریعے منصوبے کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل اور اس کی بحالی کے لیے مربوط کوششوں کا آغاز کیا۔
ان اقدامات کے نتیجے میں منصوبہ کامیابی کے ساتھ بحال کر کے دوبارہ پاکستان کے توانائی نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے، جو مقامی توانائی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور درآمدی بل میں کمی کے حکومتی ہدف کی حمایت کرے گا۔
ایسوسی ایٹڈ گروپ کے چیئرمین اقبال زیڈ احمد نے 250 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے اس منصوبے کی بحالی میں ایس آئی ایف سی کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے اس منصوبے کی بحالی میں ہماری مدد کی، جو پانچ سال سے بند تھا۔ کونسل کی معاونت اور رہنمائی کے بغیر قومی اہمیت کے حامل اس منصوبے کو دوبارہ فعال بنانا ممکن نہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جے جے وی ایل کی بحالی سے درآمدی ایل پی جی پر انحصار کم ہونے اور مقامی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باعث سالانہ تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔
اقبال زیڈ احمد نے مزید کہا کہ منصوبے کی بحالی سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 5,000 افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جبکہ اس سے خطے میں معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پلانٹ کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایس آئی ایف سی کا سہولت کاری ماڈل رکاوٹوں کو دور کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی لانے میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جے جے وی ایل میں آپریشنز کی بحالی سے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری بڑھے گی، صنعتی ترقی کو تقویت ملے گی اور اہم قومی اثاثوں کی بحالی کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کی پاکستان کی کوششوں کو مزید مضبوطی حاصل ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments