بنگلہ دیش : ٹرمپ نامی بھینسا قربانی سے بچ گیا، چڑیا گھر منتقل
- سنہری بالوں کی وجہ سے "ڈونلڈ ٹرمپ" کے نام سے مشہور بنگلہ دیش کا نایاب سفید (البینو) بھینسا اب قومی چڑیا گھر کی زینت بنے گا، بھینسا ابھی بہت چھوٹا، اسے چند سال مزید پالا جا سکتا ہے، پولیس
سنہری اور ہوا میں اڑتے بالوں کی وجہ سے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچانے والے ایک نایاب سفید بھینسے کی قسمت عید الاضحیٰ سے چند گھنٹے قبل اچانک بدل گئی۔ سوشل میڈیا پر مقبولیت کا یہ فائدہ ہوا کہ حکومت نے خود مداخلت کرکے اسے ذبح ہونے سے بچا لیا اور اب یہ انوکھا ’ٹرمپ‘ کسی قصائی کی دکان کے بجائے ڈھاکہ کے قومی چڑیا گھر میں شاہانہ زندگی گزارے گا۔
اطلاعات کے مطابق 700 کلوگرام (1500 پاؤنڈ) وزنی یہ نایاب سفید (البینو) بھینسا جس کے سر پر موجود سنہری بالوں کا انداز امریکی صدر کی مخصوص زلفوں سے مشابہت رکھتا ہے عید کے دن قربان کیا جانا تھا لیکن چاقو تلے آنے سے چند گھنٹے قبل ہی حکومت نے مداخلت کر کے اس جانور کو بچا لیا، جو انٹرنیٹ پر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
نیشنل چڑیا گھر کے کیوریٹر عتیق الرحمن نے بتایا کہ اس جانور کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی جائے گی۔ انہوں نے بدھ کو اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس البینو بھینسے کے لیے ایک الگ باڑا مخصوص کر دیا ہے اور ایک نگہبان بھی مقرر کیا ہے، اسے دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔اس انوکھے سوشل میڈیا اسٹار کے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لیے بنگلہ دیش میں لوگوں کے ہجوم اُمڈ آئے تھے۔
بھینسے کے سابقہ مالک 38 سالہ ضیاء الدین مردھا نے بتایا کہ ان کے بھائی نے اس کے ”غیر معمولی بالوں“ کی وجہ سے اس کا نام ”ٹرمپ“ رکھا تھا۔ مردھا کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے مداحوں، تماشائیوں اور بچوں سمیت متجسس مہمانوں کا ایک تانتا بندھا رہتا تھا جو اس جانور کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ تاہم انہوں نے عید الاضحیٰ سے قبل اس بھینسے کو بیچ دیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے بھینسے کو بچانے کے حکم کے بعد پولیس فوراً حرکت میں آگئی۔ ڈھاکہ کے کیرانی گنج پولیس اسٹیشن کے انچارج محمد روح الامین قدوس جہاں بھینسے کو لایا گیا تھا نے اے ایف پی کو بتایا کہ محکمہ لائیو اسٹاک نے ہم سے درخواست کی کہ ہم مالک سے یہ بھینسا لے لیں کیونکہ یہ ایک نایاب جانور ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ البینو بھینسا ابھی بہت چھوٹا ہے اور اسے چند سال مزید پالا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش میں اس تہوار کے دوران بکریوں، بھیڑوں، گائے اور بھینسوں سمیت 12 ملین (ایک کروڑ 20 لاکھ) سے زائد مویشیوں کی قربانی متوقع ہے، جہاں بہت سے غریب خاندانوں کو سال بھر میں گوشت کھانے کا یہ ایک نایاب موقع ملتا ہے۔


Comments