غزہ فلوٹیلا: آسٹریلوی کارکن وطن واپس پہنچ گئے، اسرائیل پر بدسلوکی کے الزامات
- اسرائیلی جیل سروس نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے
غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ایک فلوٹیلا (کشتیوں کے قافلے) میں شامل آسٹریلوی کارکنان، جنہیں اسرائیل نے حراست میں لیا تھا، وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ منتظمین نے ان پر بدسلوکی، جنسی زیادتی اور مارپیٹ کے الزامات عائد کیے ہیں، جن کے باعث بعض افراد کو اسپتال میں بھی داخل کرنا پڑا۔
اسرائیلی جیل سروس نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے، تاہم خبر ایجنسی روئٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکی۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں 50 کشتیوں پر مشتمل اس قافلے کو روک کر 40 ممالک سے تعلق رکھنے والے 430 رضاکاروں کو حراست میں لیا تھا، جن میں 11 آسٹریلوی شہری بھی شامل تھے۔
منتظمین کے مطابق کم از کم 15 کیسز میں جنسی بدسلوکی کے شواہد دستاویزی شکل میں موجود ہیں، جبکہ بعض کارکنوں نے جیلوں میں مارپیٹ، ٹیزر کے استعمال اور ربڑ کی گولیوں سے فائرنگ کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
آسٹریلوی کارکن جولیٹ لامونٹ نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران گھسیٹا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اور کارکن سیم وروپا واٹسن نے بتایا کہ ان کی پسلی ٹوٹی اور جسم پر چوٹیں آئیں۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ان مناظر کو حیران کن اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، جبکہ آسٹریلیا نے گزشتہ سال اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر پر پابندیاں عائد کی تھیں۔


Comments