ٹیکسٹائل برآمدات میں دوبارہ تیزی
ادارہ شماریات کے مطابق رواں سال اپریل میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 21 فیصد کا نمایاں اضافہ (کم بیک) دیکھا گیا ہے۔
مالی سال 2026ء میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں پانچ مہینوں کے دوران کمی دیکھی گئی (اکتوبر میں 0.57 فیصد، نومبر میں 2.57 فیصد، دسمبر میں 8.56 فیصد، فروری میں 7.22 فیصد اور مارچ میں 7.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی)۔
اپریل 2026ء میں ہونے والے اس اضافے میں بنیادی کردار نٹ ویئر (جو گزشتہ سال اپریل کے 23.54 ملین روپے سے بڑھ کر مارچ 2026ء میں 24.94 ملین روپے ہو گیا) اور ریڈی میڈ ملبوسات (جو گزشتہ سال اپریل کے 15.18 ملین روپے سے بڑھ کر اس سال مارچ میں 16.30 ملین روپے ہو گئے) نے ادا کیا۔ یہ اضافہ عالمی کساد بازاری کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس نے 28 فروری 2026ء کو شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد صارفین کی مصنوعات کی طلب کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کے بہتر اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے مراعات مالی اور مانیٹری کے ساتھ رعایتی بجلی جو کہ آئی ایم ایف کے جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کی وجہ سے معطل کی گئی تھیں کی بندش کے باوجود برآمدات میں اضافہ ہوا، لہٰذا اس کے اسباب کا تعین کرنے کے لیے ایک جامع اور باریک بینانہ تجزیے کی ضرورت ہے تاکہ ان مثبت اثرات کو دیگر برآمدی شعبوں میں بھی دہرایا جاسکے۔
اور یہ بھی حکومت کیلئے انتہائی اہم ہے کہ وہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے اس بار بار دہرائے جانے والے دعوے کو چیلنج کرے کہ مراعات کے خاتمے کے باعث 150 سے زائد یونٹس بند ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ اپریل 2026ء میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں آئل سیڈز، نٹس اور گریاں (کرنلز) کی برآمدات 419.7 فیصد کے زبردست اضافے کے ساتھ 33.4 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ کیمیکلز اور فارماسیوٹیکل (ادویات) کی برآمدات میں بھی سالانہ بنیادوں پر 35.15 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں 33.8 فیصد، سرجیکل گڈز اور طبی آلات کی برآمدات میں 7.62 فیصد اضافہ ہوا اور تمباکو کی برآمدات نے بھی 80.29 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔
فوڈ گروپ کی برآمدات میں 4.55 فیصد اور چاول کی برآمدات میں 9.33 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں رواں سال اپریل میں سبزیوں کی برآمدات میں 78.3 فیصد کی بھاری کمی دیکھی گئی۔
رواں سال اپریل میں مجموعی برآمدات کا حجم 2479 ملین ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اپریل میں یہ 2174 ملین ڈالر تھا (جو 14 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے)۔ روپوں کی قدر میں یہ حجم گزشتہ سال کے 610,190 ملین روپے کے مقابلے میں رواں سال 691,589 ملین روپے رہا (یعنی 13.34 فیصد اضافہ)۔ دوسری جانب درآمدات اپریل 2025ء کے 6,098 ملین ڈالر سے بڑھ کر گزشتہ ماہ 6763 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جس میں 10.91 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جولائی تا اپریل 2025ء کل برآمدات کا حجم 26,892 ملین ڈالر رہا، تاہم رواں سال اسی مدت میں برآمدات 6.26 فیصد کی کمی کے ساتھ 25,209 ملین ڈالر تک گر گئیں۔ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث تیل، کھاد اور معدنیات کی سپلائی میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے کل درآمدات میں اضافہ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں جولائی تا اپریل کی مجموعی درآمدات 2025ء کے 7,494,398 ملین روپے کے مقابلے میں رواں سال اسی مدت کے دوران بڑھ کر 16,141,381 ملین روپے تک پہنچ گئیں۔
جولائی تا اپریل 2026ء تجارتی خسارہ بڑھ کر منفی 9059.9 ارب روپے (32.199 ارب ڈالر) ہو گیا (جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں منفی 7,418 ارب روپے یعنی 26.59 ارب ڈالر تھا)۔ اس طرح تجارتی خسارے میں ڈالر کی صورت میں 21 فیصد اور روپے کی صورت میں 22.14 فیصد کا تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے تیسرے جائزے کی دستاویزات میں اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹی میں کٹوتیوں کے اگلے مرحلے کو مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں قانونی شکل دی جائے گی اور پاکستان کی وسیع تر نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے اور انہیں آسان بنانے کی کوششوں کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ ان اقدامات کے براہِ راست اثرات درآمدات میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
مزید برآں آئی ایم ایف نے اس مؤقف کو برقرار رکھا ہے کہ وسیع تر ریگولیٹری ہموار سازی کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کاروباری ضوابط سے متعلق ایک جامع ماخذ کے طور پر ایک نیا قومی ریگولیٹری رجسٹر قائم کیا جائے گا جس کا آغاز وفاقی حکومت اور آئی سی ٹی (اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری) کی حکومتوں سے ہوگا (جون 2027ء کے آخر تک کی نئی مجوزہ ساختیاتی شرط/اسٹرکچرل بینچ مارک)، جس سے شفافیت میں بہتری آئے گی اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال میں کمی واقع ہوگی۔ حکام پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے کمپنیز ایکٹ میں ترامیم کو حتمی شکل دینے کے عمل میں بھی ہیں (جون 2026ء کے آخر تک کا اسٹرکچرل بینچ مارک) جس کی توجہ ریگولیٹری بوجھ اور لین دین کے اخراجات کو کم کرنے اور لسٹڈ اور ان لسٹڈ دونوں کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ گورننس اور شفافیت کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے اور یقیناً، 2035ء تک خصوصی اقتصادی زونز ، خصوصی ٹیکنالوجی زونز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے لیے مالیاتی مراعات کے بتدریج خاتمے سے مالیاتی اخراجات تو کم ہوں گے، تاہم اس سے مجموعی پیداوار (آؤٹ پٹ) پر منفی اثرات مرتب ہونے کی بھی توقع ہے۔
خلاصہ یہ کہ یہ ساختیاتی شرائط موجودہ پیداواری یونٹس پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں اور ان کی مزاحمت بھی کی جائے گی، تاہم جیسا کہ آئی ایم ایف نے 2024ء میں بھی واضح کیا تھا کہ صنعتوں کو مالی اور مانیٹری مراعات فراہم کرنے کا عمل اب تک نوخیز صنعتوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے (کامیاب بنانے) میں ناکام رہا ہے اور اگرچہ اس عبوری مرحلے کے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، لیکن صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ درمیانی مدت میں ملکی صنعت مستحکم ہوگی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بن سکے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments