یورپی یونین کا آبنائے ہرمز کی بندش کے ردِعمل میں ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ
- تہران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں عالمی گیس اور تیل کی اہم شپنگ لائن کو مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے
یورپی یونین (ای یو) کے مطابق جمعہ کو یورپی ممالک نے ایران کے اہلکاروں اور دیگر افراد پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے قدم بڑھایا جو آبنائے ہرمز کی بندش میں ملوث ہیں۔
تہران نے فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں عالمی گیس اور تیل کی اہم شپنگ لائن کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا تھا۔
یورپی یونین نے اس ناکہ بندی کو ”بین الاقوامی قانون کے خلاف“ قرار دیتے ہوئے ایران پر عائد موجودہ پابندیوں کے دائرہ کار کو بڑھانے کا تکنیکی اقدام کیا، تاکہ مزید افراد کو اس کے تحت ہدف بنایا جا سکے۔
یورپی کونسل نے کہا کہ ”اب یورپی یونین ایران کے ان اقدامات کے جواب میں مزید پابندیاں عائد کر سکے گی جو آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی آزادی کو متاثر کر رہی ہیں۔“
یاد رہے کہ برسلز کی سابقہ پابندیاں ایران کے روس کی یوکرین جنگ میں فوجی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروپوں کی حمایت پر مرکوز تھیں۔
یورپی یونین نے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
ای یو نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ نئی پابندیوں کا نشانہ کون بنے گا، لیکن یہ پابندیاں عام طور پر سفر پر پابندی اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
ساتھ ہی، ای یو کے شہری اور کمپنیاں بھی ان افراد کو مالی وسائل یا دیگر اقتصادی سہولیات فراہم کرنے سے منع ہوں گی۔
ایران کی جنگ اور ہرمز کی بندش، جو عالمی تیل کی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ لے جاتی ہے، نے عالمی معیشت میں ہلچل مچادی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔


Comments