پانڈا 'سفارت کاری'
- چین کی آن شور کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کا اجرا بلاشبہ ایک اہم مالیاتی سنگِ میل ہے
چین کی آن شور کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کا اجرا بلاشبہ ایک اہم مالیاتی سنگِ میل ہے۔ حکومت نے 1.75 ارب رینمنبی، یعنی تقریباً 25 کروڑ ڈالر، 2.5 فیصد کُوپن شرح اور تین سالہ مدت پر حاصل کرکے اس پیش رفت کو پاکستان کی معاشی سمت پر بحال ہوتے بین الاقوامی اعتماد کا ثبوت قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس اجرا کو پانچ گنا سے زائد سبسکرائب کیا گیا، جبکہ طلب 8.8 ارب رینمنبی سے تجاوز کر گئی۔
بادی النظر میں یہ پیش رفت خاصی متاثر کن دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسا ملک جسے طویل عرصے سے مالیاتی طور پر کمزور سمجھا جاتا رہا، وہ دنیا کی دوسری بڑی بانڈ مارکیٹ تک اس شرح پر رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے جو پاکستان کی جانب سے عموماً ڈالر مالیت والے یورو بانڈز پر ادا کی جانے والی شرح سے نمایاں طور پر کم ہے۔ تاہم جشن اور کامیابی کے دعوؤں کے پیچھے حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پانڈا بانڈ نہ تو کوئی معاشی انقلاب ہے اور نہ ہی پاکستان کے ساختی قرض جاتی مسائل کا حل۔ اسے زیادہ درست طور پر حکمتِ عملی پر مبنی قرض جاتی تبدیلی کے بجائے وقتی مالیاتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس اجرا کو چینی مالیاتی ڈھانچوں کی نمایاں ادارہ جاتی معاونت حاصل رہی، جبکہ اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی معاونت پر مبنی انتظامات بھی اس میں شامل تھے۔ یہ فرق اہمیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کار صرف پاکستان کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے اندازوں میں جغرافیائی سیاسی عوامل، مقامی بانڈ مارکیٹ میں چینی ریاستی اثر و رسوخ، اور کثیرالجہتی اداروں کی شمولیت سے پیدا ہونے والا اعتماد بھی شامل تھا۔
دوسرے لفظوں میں یہ معاملہ جتنا پاکستان کی معاشی بحالی کا عکاس ہے، اتنا ہی چین کی پاکستان کی حمایت کے لیے تزویراتی آمادگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس کے باوجود اس پیش رفت کے بعض حقیقی مثبت پہلو بھی موجود ہیں۔
اول، پاکستان نے اپنے مالیاتی ذرائع کو روایتی مغربی کیپٹل مارکیٹس اور خلیجی دوطرفہ قرض دہندگان سے آگے بڑھاتے ہوئے متنوع بنایا ہے۔ چین کی آن شور رینمنبی مارکیٹ تک رسائی سے ڈالر مالیت والے قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار میں کمی آئے گی۔ نظریاتی طور پر اس سے عالمی سطح پر ڈالر کی سخت مالیاتی پالیسیوں اور امریکی شرحِ سود میں اضافے کے جھٹکوں کے مقابلے میں پاکستان کی کمزوری کم ہو سکتی ہے۔
دوم، 2.5 فیصد کُوپن شرح پاکستان کی ماضی کی خودمختار قرض گیری کے مقابلے میں خاصی بہتر دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے یورو بانڈز پر ماضی میں اکثر 6 سے 8 فیصد تک منافع دینا پڑا، جبکہ بحرانی ادوار میں یہ شرح اس سے بھی کہیں زیادہ رہی۔ حتیٰ کہ 2021 کے یورو بانڈ اجرا میں بھی 5.875 فیصد اور 7.375 فیصد کُوپن شرح مقرر کی گئی تھی۔ اس تناظر میں 2.5 فیصد غیرمعمولی طور پر کم لاگت دکھائی دیتی ہے۔
سوم، پانڈا بانڈ ایک ایسے وقت میں پاکستان کے لیے مالیات کے نئے راستے کھول سکتا ہے جب بین الاقوامی کمرشل مارکیٹس اب بھی بڑی حد تک پاکستان کے لیے بند ہیں۔ 2022-23 کے ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جانے والے بحران کے بعد پاکستان معمول کی مارکیٹ رسائی بحال کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔ چین میں کامیاب ابتدائی اجرا ری فنانسنگ اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک متبادل ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
تاہم اس کے خطرات بھی کم اہم نہیں۔
پہلا بڑا خدشہ کرنسی کے خطرے سے متعلق ہے۔ پانڈا بانڈ پاکستانی روپے نہیں بلکہ چینی رینمنبی میں جاری کیے گئے ہیں، اس لیے پاکستان اب بھی زرمبادلہ کے خطرے سے دوچار رہے گا۔ اگر آئندہ تین برسوں میں روپے کی قدر یوان کے مقابلے میں نمایاں طور پر گر گئی تو مقامی کرنسی میں ادائیگی کی لاگت بڑھ جائے گی۔
پاکستان نے وقتی طور پر ڈالر کے خطرے سے تو کچھ حد تک نجات حاصل کر لی ہے، لیکن بیرونی کرنسی کے خطرے سے مکمل طور پر نہیں نکل سکا۔
دوسرا، یہ اب بھی قرض ہے، سرمایہ کاری نہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اکثر بیرونی قرض گیری کو معاشی کامیابی کے مترادف قرار دیتی ہے۔ مہنگے قرض کے مقابلے میں کم شرح پر قرض لینا یقیناً بہتر ہے، لیکن اس سے مجموعی قرضوں کا بوجھ بنیادی طور پر کم نہیں ہوتا۔ اگر حاصل کردہ رقوم سے برآمدی صلاحیت یا پائیدار معاشی نمو پیدا نہ ہو تو ملک محض ایک ذمہ داری کو دوسری ذمہ داری سے بدلتا ہے۔
تیسرا، اس قرض کی مدت مختصر ہے۔ تین سالہ میعاد کا مطلب یہ ہے کہ قرض کی تجدید کا دباؤ جلد دوبارہ سامنے آ جائے گا۔ پاکستان کا بیرونی مالیاتی مسئلہ صرف قرض کی لاگت نہیں بلکہ قلیل مدتی واجبات کو مسلسل نئے قرضوں سے پورا کرنے کا چکر بھی ہے۔ ٹیکس نظام، برآمدات، توانائی کی بچت اور طرزِ حکمرانی میں گہرے ساختی اصلاحات کے بغیر نئی قرض گیری محض ادائیگی کے دباؤ کو آگے دھکیلنے کے مترادف ہوگی۔
اس معاملے کا ایک جغرافیائی سیاسی پہلو بھی ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت تیزی سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہو رہی ہے، چینی کیپٹل مارکیٹس پر بڑھتا ہوا انحصار پاکستان کی مالیاتی وابستگی کو بیجنگ کے ساتھ مزید گہرا کر سکتا ہے۔
مالیاتی ذرائع میں تنوع یقیناً مثبت ہے، لیکن حد سے زیادہ انحصار نہیں۔ پاکستان کو یہ احتیاط کرنا ہوگی کہ مغربی قرض دہندگان پر انحصار کم کرتے ہوئے وہ کسی ایک تزویراتی شراکت دار پر ضرورت سے زیادہ انحصار کا شکار نہ ہو جائے۔
عالمی سطح پر پانڈا بانڈ کوئی غیرمعمولی مالیاتی ذریعہ نہیں۔ فلپائن اور پولینڈ جیسے ممالک بھی چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کر چکے ہیں۔ تاہم ان معیشتوں کے برعکس پاکستان اس مارکیٹ میں دائمی ادائیگیوں کے توازن کے بحران اور بار بار آئی ایم ایف پر انحصار کے پس منظر کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، اور یہی حقیقت اس پورے معاملے کی تعبیر کو یکسر بدل دیتی ہے۔
پاکستان کا حقیقی قرض بحران وقتی مالیاتی لین دین کا نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔ حکومتی آمدنی کے مقابلے میں عوامی قرضوں کا حجم بدستور غیرپائیدار حد تک بلند ہے۔ سود کی ادائیگیاں وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر جاتی ہیں۔ برآمدات میں اضافہ کمزور اور محدود بنیادوں پر قائم ہے۔ ٹیکس ادائیگی کا نظام مسلسل کمزور ہے، جبکہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرض مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی بنیادی کمزوری محض ایک کامیاب بانڈ اجرا سے ختم نہیں ہو جاتی۔
لہٰذا پانڈا بانڈ کو ایک ایسے مفید مالیاتی ذریعے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو پاکستان کو وقتی ریلیف فراہم کرتا ہے، مالیاتی ذرائع میں کسی حد تک تنوع پیدا کرتا ہے اور مارکیٹ کے اعتماد کی جزوی بحالی کا اشارہ دیتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments