اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ برقرار، 100 انڈیکس 950 پوائنٹس مزید گرگیا
- کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 166,498.83 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس میں 950 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 168,528.87 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا، تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی کیونکہ فروخت کے دباؤ نے پورے سیشن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
فروخت کے دباؤ میں اضافے کے باعث بینچ مارک انڈیکس میں مندی کا رجحان برقرار رہا اور دورانِ ٹریڈنگ یہ 166,398.90 پوائنٹس کی نچلی سطح تک گرگیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 952.30 پوائنٹس یا 0.57 فیصد کی کمی سے 166,498.83 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج مندی کی زد میں رہی کیونکہ جاری سفارتی مذاکرات میں کسی ٹھوس پیش رفت کی عدم موجودگی اور امریکہ و ایران کے درمیان بدلتی صورتحال پر برقرار غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیے رکھا۔ مزید برآں تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مارکیٹ کے جذبات کو مزید متاثر کیا۔
گزشتہ روز100 انڈیکس 1,465.09 پوائنٹس یا 0.87 فیصد کی کمی سے 167,451.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جس کی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے پایا جانے والا جوش و خروش ہے، اس لہر نے جنوبی کوریا کی کمپنی ایس کے ہائنکس کو ایک ٹریلین ڈالر کی مالیت والی کمپنیوں کے کلب میں شامل ہونے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ دوسری جانب تمام تر توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی انتہائی اہم اور حساس سربراہی ملاقات پر مرکوز ہے۔
جمعرات کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں صدر ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ توقع ہے کہ ان بات چیت کا محور دونوں ممالک کے درمیان قائم نازک تجارتی معاہدہ اور دیگر حساس تنازعات جیسے کہ ایران جنگ اور تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت ہوں گے۔
چین کے بلیو چِپ حصص سیشن کے آغاز میں سن 2021 کے آخر کے بعد اپنی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد 1 فیصد گرگئے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں یوآن تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا کیونکہ ٹریڈرز کی نظریں ٹرمپ اور شی کی ملاقات سے آنے والی خبروں پر جمی ہوئی ہیں۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی براڈسٹ انڈیکس 0.3 فیصد پر رہا، جو گزشتہ ہفتے کی ریکارڈ بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
جاپان کا نکی انڈیکس ایک نئی بلند ترین سطح پر برقرار رہا، اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ طلب نے جاپانی کمپنیوں کے منافع میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب سیول کا کوسپی انڈیکس ابتدائی برتری برقرار نہ رکھ سکا اور کاروبار کے دوران مستحکم (فلایٹ) رہا۔
تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی بڑھی قیمتیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں تعطل، مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ جنم دے سکتے ہیں۔
اسی دوران انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا، جس میں 0.01 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.62 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں تین پیسے کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
آل شیئر انڈیکس میں مجموعی حجم بڑھ کر 706.02 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 684.90 ملین شیئرز تھا۔
حصص کی مجموعی مالیت کم ہو کر 19.92 ارب روپے رہی، جو پچھلے سیشن میں 21.74 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔
جمعرات کو بنیز لمیٹڈ115.35 ملین شیئرز کے ساتھ حجم کے اعتبار سے سرِفہرست رہا، اس کے بعد ٹرسٹ بروکریج کے 62.76 ملین اور ٹریٹ بیٹری لمٹیڈ کے 56.83 ملین شیئرز رہے۔
مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 155 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 293 میں کمی جبکہ 36 کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔



Comments