ایران کا ورلڈ کپ میں شرکت کا اعلان، میزبانوں سے شرائط تسلیم کرنے کا مطالبہ
- شرائط میں ویزوں کا اجرا، ٹیم کے عملے کے احترام کو یقینی بنانا، ٹورنامنٹ کے دوران قومی پرچم اور قومی ترانے کا احترام، اور ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور اسٹیڈیم تک جانے والے راستوں پر سخت سیکیورٹی کی فراہمی جیسے مطالبات شامل
ایران کی فٹبال فیڈریشن نے کہا ہے کہ مردوں کی قومی ٹیم اس موسمِ گرما میں 2026 کے ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی، تاہم اس نے مشترکہ میزبان ممالک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں اس کی شرائط کو تسلیم کریں۔
یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ کینیڈا نے فیفا کانگریس سے قبل ایران کی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ کو ملک میں داخلے سے روک دیا تھا، جس کی وجہ ان کے مبینہ طور پر پاسدارانِ انقلابِ ایران ( آئی آر جی سی ) سے تعلقات بتائے گئے تھے، جسے کینیڈا نے 2024 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
ایران کی ٹیم کی ٹورنامنٹ میں شرکت، جو 11 جون سے 19 جولائی تک منعقد ہوگا، فروری میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑنے کے بعد سے غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی ہے، جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر کہا ہے: ’’ہم 2026 کے ورلڈ کپ میں ضرور شرکت کریں گے، تاہم میزبان ممالک کو ہمارے تحفظات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”ہم ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں ضرور شرکت کریں گے، لیکن اپنے عقائد، ثقافت اور نظریات پر کسی قسم کی دستبرداری کے بغیر۔“
ایران کی فٹبال فیڈریشن ( ایف ایف آئی آر آئی ) کے صدر مہدی تاج نے جمعہ کے روز سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ تہران نے اس عالمی ایونٹ میں شرکت کے لیے 10 شرائط رکھی ہیں تاکہ ملک کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے ضمانتیں حاصل کی جا سکیں۔
ان شرائط میں ویزوں کا اجرا، ٹیم کے عملے کے احترام کو یقینی بنانا، ٹورنامنٹ کے دوران قومی پرچم اور قومی ترانے کا احترام، اور ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور اسٹیڈیم تک جانے والے راستوں پر سخت سیکیورٹی کی فراہمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایرانی فٹبالرز کو ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت دی جائے گی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ممکنہ طور پر ایرانی وفد کے ان ارکان کے داخلے پر پابندی لگا سکتا ہے جن کے مبینہ تعلقات پاسدارانِ انقلابِ ایران (آئی آر جی سی) سے ہوں، جسے امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
ایرانی فٹبال چیف مہدی تاج نے کہا ہے کہ ” تمام کھلاڑیوں اور تکنیکی عملے، بالخصوص وہ افراد جنہوں نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) میں اپنی فوجی خدمات انجام دی ہیں، جیسے مہدی طارمی اور احسان حاج صفی، کو بغیر کسی رکاوٹ کے ویزے جاری کیے جائیں۔“
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کی ٹیم اپنے شیڈول کے مطابق امریکہ میں ورلڈ کپ کے میچز کھیلے گی۔
ایران، جو اس ورلڈ کپ کے دوران ایریزونا کے شہر ٹکسن میں قیام کرے گا، گروپ جی میں نیوزی لینڈ، بیلجیم اور مصر کے ساتھ شامل ہے۔
ایران اپنے ورلڈ کپ سفر کا آغاز 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے کرے گا۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ”کوئی بیرونی طاقت ایران کو اس ٹورنامنٹ میں شرکت سے محروم نہیں کر سکتی، جس کے لیے اس نے اہلیت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حاصل کی ہے۔“


Comments