BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Increased By (0.28%)
KSE100 Increased By (0.26%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.16 Decreased By ▼ -1.57 (-2.63%)
BIPL 27.23 Increased By ▲ 0.23 (0.85%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 13.11 Increased By ▲ 0.27 (2.1%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 213.66 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
FABL 99.56 Increased By ▲ 0.57 (0.58%)
FCCL 58.06 Increased By ▲ 0.40 (0.69%)
FFL 16.23 Increased By ▲ 0.03 (0.19%)
GGL 23.98 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 338.16 Increased By ▲ 4.45 (1.33%)
HUBC 213.36 Increased By ▲ 1.93 (0.91%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.06 (0.57%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.05 (-0.67%)
LOTCHEM 27.67 Decreased By ▼ -0.32 (-1.14%)
MLCF 102.75 Increased By ▲ 2.10 (2.09%)
OGDC 318.92 Decreased By ▼ -1.37 (-0.43%)
PAEL 43.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.05%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 1.27 (0.47%)
PPL 229.45 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 70.80 Decreased By ▼ -0.22 (-0.31%)
SNGP 104.58 Increased By ▲ 2.36 (2.31%)
SSGC 27.41 Increased By ▲ 0.73 (2.74%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.08 (-0.93%)
TPLP 15.76 Increased By ▲ 0.65 (4.3%)
TRG 60.29 Increased By ▲ 0.45 (0.75%)
UNITY 11.72 Decreased By ▼ -0.33 (-2.74%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.03 (-2.44%)
دنیا

توانائی بحران کے باعث بنگلہ دیش کا شمسی توانائی کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ

  • بنگلہ دیش نے 495 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش نے 495 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں، جس کا مقصد درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے، جبکہ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش پاور ڈیولپمنٹ بورڈ (بی پی ڈی بی) نے 10 گرڈ سے منسلک سولر منصوبوں کے لیے بولیاں طلب کی ہیں، جن کی گنجائش 25 میگاواٹ سے 100 میگاواٹ تک ہوگی۔ یہ منصوبے نجی سرمایہ کاروں کے ذریعے تعمیر کیے جائیں گے اور انہیں موجودہ سب اسٹیشنز کے قریب قائم کیا جائے گا تاکہ گرڈ کی استحکام میں بہتری آئے اور فوسل فیول پر مبنی بجلی نظام پر دباؤ کم ہو۔

حکام کے مطابق حتمی بولیاں 28 جون تک جمع کرائی جائیں گی۔

اگرچہ بنگلہ دیش پہلے بھی قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے اہداف مقرر کر چکا ہے، تاہم پیش رفت سست رہی ہے۔ لیکن موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال نے اس عمل کو تیز کر دیا ہے۔

تقریباً 175 ملین آبادی والا یہ ملک تیل، کوئلہ اور ایل این جی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کے باعث عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے شدید متاثر ہوتا ہے۔

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کے باعث حکومت نے متبادل توانائی ذرائع تلاش کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ ایندھن کی راشننگ اور دفاتر کے اوقات میں کمی جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سولر توانائی میں اضافہ مستحکم اور سستی بجلی کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس شعبے کی توسیع کے لیے گرڈ، اسٹوریج اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

Comments

200 حروف