سیمنٹ انڈسٹری تین دہائیوں سے کارٹیلائزیشن خدشات کی زد میں
- مربوط طرز عمل کے شواہد سامنے آنے کے باوجود سیمنٹ انڈسٹری مؤثر کارروائی سے بچتی رہی ہے، رپورٹ
پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل کارٹیلائزیشن کے خدشات کے مرکز میں رہی ہے، جہاں ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے: باہمی مفاہمت سے قیمتوں میں اضافہ، ریگولیٹری مداخلت، اور پھر قانونی و انتظامی راستوں کے ذریعے عملدرآمد کو کمزور بنا دینا۔
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی حالیہ سیکٹر رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ بارہا مربوط طرز عمل کے شواہد سامنے آنے کے باوجود سیمنٹ انڈسٹری مؤثر کارروائی سے بچتی رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی کے مونوپولی کنٹرول اتھارٹی کے دور سے لے کر آج تک ریگولیٹری اقدامات یا تو کمزور کر دیے گئے، عدالتوں میں چیلنج ہو گئے یا طویل مقدمات کی نذر ہو گئے، جس سے جرمانوں کا اثر کم ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں کارٹیل کے لیے سازگار خصوصیات موجود ہیں، جیسے یکساں مصنوعات، اضافی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں کمی، جس سے مشترکہ قیمتوں کا تعین آسان ہو جاتا ہے۔
پہلا بڑا کارٹیل معاملہ 1992 میں نجکاری کے فوراً بعد سامنے آیا، جب کمپنیوں نے سیلاب کے بعد طلب میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتیں بڑھائیں اور سپلائی محدود کر دی۔ اس وقت مونوپولی کنٹرول اتھارٹی نے گٹھ جوڑ کی تصدیق کی، مگر سخت کارروائی کے بجائے انتظامی اقدامات پر اکتفا کیا گیا۔
1998 میں بھی یہی صورتحال دہرائی گئی، جب سیمنٹ کمپنیوں نے تقریباً 100 روپے فی بوری قیمت بڑھا دی۔ اتھارٹی نے اسے منافع بڑھانے کے لیے غیر اعلانیہ معاہدہ قرار دیا، مگر کمپنیوں نے احکامات نظر انداز کر دیے اور عدالتوں سے حکم امتناع حاصل کر لیا۔ بعد ازاں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی مداخلت نے معاملہ دبا دیا۔
2000 کی دہائی کے اوائل میں بھی اسی نوعیت کے واقعات سامنے آئے۔ 2003 میں کارروائی شروع ہوئی اور 2005 میں 18 کمپنیوں کو قیمتیں کم کرنے کا حکم دیا گیا، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اسے قیمتوں کے کنٹرول کے مترادف قرار دے کر کالعدم کر دیا۔
2007 میں قانون میں تبدیلی کے بعد سی سی پی کو نئے اختیارات ملے اور 2009 میں 20 کمپنیوں پر 6.3 ارب روپے کا تاریخی جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم یہ کیس بھی طویل قانونی کارروائی میں پھنس گیا۔
رپورٹ کے مطابق 1992 سے 2009 تک کے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ سیمنٹ سیکٹر میں کارٹیلائزیشن بار بار سامنے آتی رہی ہے، جبکہ قانونی پیچیدگیوں اور سست عملدرآمد نے مسابقتی قوانین کے مؤثر نفاذ کو محدود کر دیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments