آئی ایم ایف کی کرپشن ڈائیگنوسٹک رپورٹ جانبدار ہے؟
- رپورٹ کی اشاعت اگست 2025 کے آخر تک ایک اسٹرکچرل بینچ مارک کے طور پر طے تھی جو 7 ارب ڈالر کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی پروگرام کا حصہ تھا
چیئرمین نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب)، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ادارے کی قابلِ تعریف کارکردگی پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تکنیکی معاونت (ٹی اے) رپورٹ جس کا عنوان “پاکستان گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے)” ہے، کو انتہائی جانبدار اور نامناسب قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ ان آئی ایم ایف لوگوں کو رسائی دیتے ہیں تو وہ براہِ راست آپ کے بیڈروم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ کی اشاعت اگست 2025 کے آخر تک ایک اسٹرکچرل بینچ مارک کے طور پر طے تھی جو 7 ارب ڈالر کے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی پروگرام کا حصہ تھا، تاہم یہ دو اڑھائی ماہ تاخیر کا شکار رہی اور بالآخر اس وقت اپ لوڈ کی گئی جب پاکستانی حکام کو احساس ہوا کہ اس شرط کی تکمیل کے بغیر دوسرا اسٹاف لیول معاہدہ ممکن نہیں ہوگا اور قسط کی ادائیگی مؤخر رہے گی۔ یہ صورتحال 9 ارب ڈالر سے زائد کے ان رول اوورز کی تجدید نہ ہونے کا باعث بھی بن سکتی تھی جو اُس وقت کے تین دوست ممالک کی جانب سے دیے گئے تھے۔ مزید برآں آئی ایم یف نے چیئرمین نیب کے انتخاب کے عمل کو جنوری 2027 تک ازسرنو تشکیل دینے اور ایک کمیشن پر مبنی طریقہ کار متعارف کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے جس میں اپوزیشن اراکین، عدلیہ اور سول سوسائٹی کی نمائندگی شامل ہو۔
دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں۔ اول یہ کہ تکنیکی معاونت (ٹی اے) کے لیے حکومت کی منظوری ضروری ہوتی ہے جو رپورٹ کے مصنفین کو اہم معلومات تک رسائی فراہم کرتی ہے تاکہ وہ باخبر سفارشات تیار کر سکیں۔ دوم یہ کہ مختلف حکومتیں اس امر کو تسلیم کرتی رہی ہیں کہ اعلیٰ عہدیداروں کے تقرر کے نظام میں خامیاں موجود ہیں جہاں اکثر میرٹ کو اقربا پروری کے تابع رکھا جاتا ہے، اور یہ وعدہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ ادارہ جاتی سربراہان کا انتخاب صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔
اس کے باوجود، جی سی ڈی اے نے دو بڑے نظامی نقائص کی نشاندہی کی ہے: ایک رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے قانون پر عملدرآمد نہ ہونا، اور دوسرا احتساب کے نظام میں خامیاں یا اس کا غلط استعمال۔ رپورٹ کے مطابق آر ٹی آئی کا قانونی ڈھانچہ موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد شفافیت کے مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکا۔ انفارمیشن کمیشن کے مطابق آر ٹی آئی درخواستوں کا ایک بڑا حصہ یا تو غیر مؤثر ہے یا اسے استثنیٰ کی بنیاد پر مسترد کر دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران دائر ہونے والی زیادہ تر اپیلیں مختلف اداروں سے متعلق تھیں، جن میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (21 زیرِ التوا، 68 نمٹا دی گئیں)، نادرا (20 زیرِ التوا، 66 نمٹا دی گئیں)، وزارت داخلہ (26 زیرِ التوا، 40 نمٹا دی گئیں)، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (16 زیرِ التوا، 43 نمٹا دی گئیں)، وزارت اطلاعات و نشریات (21 زیرِ التوا، 38 نمٹا دی گئیں)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (15 زیرِ التوا، 43 نمٹا دی گئیں)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (23 زیرِ التوا، 31 نمٹا دی گئیں)، اور قومی اسمبلی (16 زیرِ التوا، 30 نمٹا دی گئیں) شامل ہیں۔
رپورٹ میں وِسل بلور پروٹیکشن نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل، جسے غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہیں، شفافیت اور احتساب کے آزمودہ نہ ہونے والے طریقہ کار کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
عدالتی اصلاحات، جو متنازعہ ستائیسویں آئینی ترمیم سے قبل کی تھیں، انہیں بھی جی سی ڈی اے میں تشویش کے شعبوں کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور اس کی سات تجاویز قابلِ توجہ قرار دی گئی ہیں: (i) عدالتی تعیناتیوں اور ججوں اور انتظامی ٹربیونلز اور خصوصی عدالتوں کے اراکین کی مدتِ تعیناتی کے لیے معیاری اصولوں کی تیاری، اور ان اصولوں کی تمام عدالتی تعیناتیوں میں، خصوصاً تجارتی مقدمات سے متعلق عدالتوں میں، پابندی کا مظاہرہ؛ (ii) وفاقی انتظامی ٹربیونلز اور خصوصی عدالتوں کی کارکردگی میں بہتری؛ (iii) تمام عدالتی عملے کے لیے دی جانے والی مراعات میں دیانتداری اور مفادات کے ٹکراؤ (کانفلکٹ آف انٹرسٹ) سے متعلق شقوں کو مضبوط بنانا؛ (iv) ہر سال عوامی رپورٹنگ کا آغاز کرنا جس میں دیانتداری کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، موصول ہونے والی شکایات کی تعداد، ان کے ازالے اور دیگر اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں؛ (v) عدالتی دیانتداری کو بہتر بنانا؛ (vi) متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے نظام کو وسعت دینا اور ادارہ جاتی شکل دینا، ملک بھر میں اے ڈی آر مراکز کو فعال کرنا اور ثالثی (آربیٹریشن) بل کو نافذ کرنا؛ اور (vii) پاکستان میں ادارہ جاتی کارکردگی اور عدالتی خدمات کی بہتری کے لیے کثیر سالہ عدالتی اصلاحاتی حکمت عملی تیار کرنا۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں درج ذیل کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے: (i) مالیاتی حکمرانی (پبلک فنانشل مینجمنٹ، سرکاری خریداری کا نظام، ریاستی اثاثوں کا انتظام اور ٹیکس انتظامیہ و پالیسی) جہاں نہ داخلی اور نہ ہی بیرونی آڈیٹرز کو اپنے مینڈیٹ پورا کرنے کے لیے مناسب اختیار حاصل ہے، اور بجٹ کی کمزور ساکھ موجود ہے؛ (ii) مارکیٹ ریگولیشن جہاں ریگولیٹری ادارے مخصوص کمپنیوں یا مضبوط کارٹلز کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے غیر جانبداری اور ریگولیٹری گرفت (ریگولیٹری کیپچر) کے خدشات پیدا ہوتے ہیں؛ (iii) مالیاتی شعبے کی نگرانی؛ (iv) منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات؛ اور (v) قانون کی حکمرانی، خصوصاً معاہدوں کے نفاذ، جائیداد کے حقوق کے تحفظ، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عدالتی نظام تنظیمی طور پر پیچیدہ ہے اور کارکردگی کے مسائل، پرانے قوانین اور ججوں و عدالتی عملے کی دیانتداری سے متعلق مسائل کے باعث معاہدوں کے مؤثر نفاذ اور جائیداد کے حقوق کے تحفظ میں قابلِ اعتماد نہیں ہے۔
اور شاید رپورٹ کا سب سے سخت اور تشویشناک نکتہ یہ ہے کہ اس کا جائزہ صرف وفاقی سطح تک محدود تھا، یعنی اگر تکنیکی معاونت (ٹی اے) میں صوبائی سطح کو بھی شامل کیا جاتا تو سنگین خدشات کی شدت کہیں زیادہ بڑی ہو سکتی تھی۔
اختتام پر کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بدعنوانی کی لاگت 3.6 کھرب یا عالمی جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر سمجھی جاتی ہے، اور پاکستان کی مثال میں اندازہ ہے کہ ملک ہر سال اپنی جی ڈی پی کا 6.5 فیصد، یعنی تقریباً 20 سے 25 ارب ڈالر بدعنوانی کی وجہ سے کھو دیتا ہے۔ اس لیے اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سخت انسدادِ بدعنوانی پالیسیوں کے نفاذ کی ضرورت ہے تاکہ اس ملک کے عوام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments