مالیاتی اصلاحات کا پروگرام سست روی کا شکار، عالمی بینک
- 19 دسمبر 2025 کو منظور ہونے والا 600 ملین امریکی ڈالر مالیت کا پروگرام 'پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ تاحال غیر موثر ہے، رپورٹ
عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین امپلیمینٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا پاکستان کا مالیاتی اصلاحاتی پروگرام سست روی کا شکار ہے۔ منظوری کے کئی ماہ گزر جانے کے باوجود اس پروگرام پر باقاعدہ عملدرآمد ہونا ابھی باقی ہے۔
19 دسمبر 2025 کو منظور ہونے والا 600 ملین امریکی ڈالر مالیت کا پروگرام ’پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ تاحال غیر موثر ہے کیونکہ اہم انتظامی منظوریوں کا عمل ابھی تک زیرِ التوا ہے۔
منصوبے کا پی سی - ون فی الوقت سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے زیرِ غور ہے جس کی وجہ سے ان اصلاحات کے آغاز میں تاخیر ہورہی ہے جن کا مقصد پاکستان کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور میکرو اکنامک استحکام کو سہارا دینا ہے۔
تاخیر کے باوجود عالمی بینک نے مجموعی پیشرفت اور عملدرآمد کو قدرِے تسلی بخش قرار دیا ہے جبکہ سیاسی، میکرو اکنامک اور ادارہ جاتی چیلنجز کو مدِنظر رکھتے ہوئے مجموعی خطرے کی سطح کو نمایاں قرار دیا ہے۔
اپنی بنیادی نوعیت میں یہ پروگرام پاکستان کے محصولات کی وصولی، سرکاری اخراجات کی مؤثریت اور شماریاتی نظام میں جامع اصلاحات لانے کا خواہاں ہے تاہم اب تک کوئی فنڈ جاری نہ ہونے اور کسی بھی سرگرمی کے باضابطہ آغاز نہ ہونے کے باعث تقریباً تمام کارکردگی اشاریے اپنی ابتدائی سطح پر ہی برقرار ہیں۔
اہم مالیاتی اہداف میں 2030 تک ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب کو 12.3 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد تک لانا، ٹیکس اخراجات میں 30 فیصد کمی کرنا اور کل محصولات میں براہِ راست ٹیکسوں کا حصہ بڑھانا شامل ہے۔
ان محاذوں پر پیش رفت فی الوقت رکی ہوئی ہے، اگرچہ حکام کو توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام پر صورتحال اور ڈیٹا واضح ہو کر سامنے آئے گا۔
ٹیکس نظام کو جدید بنانے کی کوششیں جیسے ایک سنگل جی ایس ٹی پورٹل کا قیام اور نان زیرو ریٹرنز جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ، ساختی رکاوٹوں کا شکار رہی ہیں۔ بالخصوص وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے فقدان کے باعث ٹیکس نظام کی یکسانیت کا عمل مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
اخراجات کے پہلو پر شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی اصلاحات، بشمول وینڈرز (فراہم کنندگان) کو ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای-گورننس خدمات کی توسیع کا آغاز ہونا ابھی باقی ہے۔ اس سلسلے میں مقرر کردہ اہداف، جیسے کہ 20 لاکھ افراد کی ڈیجیٹل عوامی خدمات تک رسائی کو ممکن بنانا اور وینڈرز کی 70 فیصد ادائیگیوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کرنا فی الحال دور نظر آتے ہیں۔
رپورٹ میں سیاسی طور پر حساس اصلاحات، بشمول حکومت کے رائٹ سائزنگ (اداروں کے حجم کو درست کرنے) کے اقدام پر سست رفتاری کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں تجزیاتی کام مکمل ہو چکا ہے لیکن کابینہ کی منظوری ابھی تک زیرِ التوا ہے اور مالیاتی بچت کے ثمرات ابھی ظاہر ہونا باقی ہیں۔
اسی طرح بجلی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈیز، جن کی سالانہ لاگت اس وقت 1.19 ٹریلین (11 کھرب 90 ارب) روپے ہے کو کم کرنے کے لیے اصلاحات ابھی تیاری کے مرحلے میں ہیں، باوجود اس کے کہ اس سلسلے میں مشاورتی تعاون مسلسل فراہم کیا جارہا ہے۔
اداروں کی کام کرنے کی صلاحیت میں کمی ایک اور بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اہم عہدوں، بشمول پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے ڈائریکٹر اور تکنیکی ماہرین کی تعیناتیاں ابھی تک نہیں کی جا سکیں۔ گورننس اور نگرانی کے متعدد میکانزم جن میں خریداری کے نظام اور آڈٹ کے ڈھانچے شامل ہیں، اب بھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔
یہ پروگرام پاکستان کی شماریاتی صلاحیت کو بہتر بنانے پر بھی بھرپور زور دیتا ہے۔ ان اہداف میں ملک کے اسٹیٹسٹیکل پرفارمنس انڈیکیٹر اسکور کو 68 سے بڑھا کر 90 تک لے جانا اور نئے ڈیٹا اور انٹیلی جنس یونٹس کا قیام شامل ہے۔ تاہم تمام اشاریوں پر پیش رفت فی الحال صفر ہے۔
مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے عالمی بینک اس سال کے آخر میں اپنے پہلے امپلیمینٹیشن سپورٹ مشن کی منصوبہ بندی کررہا ہے جس سے زمینی سطح پر ہونے والی پیش رفت کی واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔ تب تک یہ پروگرام تیاری کے مرحلے میں ہی رہے گا جس کی کامیابی کا دارومدار فوری منظوریوں، ادارہ جاتی تیاری اور مستقل سیاسی عزم پر ہے۔
یہ رپورٹ ایک جانے پہچانے چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے: اگرچہ پاکستان کا اصلاحاتی ایجنڈا کاغذ پر تو جامع ہے لیکن اسے عملی شکل دینا ہی اصل امتحان ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments