قرض، طاقت اور دولت کا فریب
- ایک اہم پہلو دولت کی گردش ہے۔ جب سرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز رہتا ہے تو مجموعی طلب کمزور پڑتی ہے، جدت کی رفتار سست ہوتی ہے اور سماجی تناؤ بڑھتا ہے۔
جدید عالمی معیشت ایک ایسے تضاد کی عکاسی کرتی ہے جس کا سامنا کرنے کے لیے بہت کم پالیسی ساز تیار ہیں۔ آج دنیا تقریباً 317 کھرب امریکی ڈالر کے قرض تلے دبی ہوئی ہے—جو عالمی پیداوار کے لگ بھگ تین گنا کے برابر ہے۔ صرف ریاستہائے متحدہ پر ہی 36 کھرب ڈالر سے زائد کا عوامی قرض ہے، جبکہ چین، جاپان اور یورپ بھی اسی طرح کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کے ساتھ اس کے پیچھے ہیں۔ تاہم، واجبات کے اس بے مثال انبار کے باوجود یہ نظام نہ صرف چل رہا ہے بلکہ درحقیقت پھیل بھی رہا ہے۔
یہ ایک ایسا سوال اٹھاتا ہے جو جدید سیاسی معیشت کے مرکز میں واقع ہے: اگر سب ہی مقروض ہیں تو قرض خواہ کون ہے؟ اس کا جواب محض حسابی مساوات نہیں بلکہ ایک ساختی ڈیزائن کو بے نقاب کرتا ہے۔ ہر واجب الادا رقم کے مقابل ایک اثاثہ موجود ہوتا ہے۔ اگر دنیا پر 317 کھرب امریکی ڈالر کا قرض ہے تو کسی کے پاس اتنی ہی مالیت کے دعوے بھی موجود ہیں۔
یہ دعوے مرکزی بینکوں، بڑے مالیاتی اداروں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، غیر ملکی ریاستی اداروں اور بالآخر معاشرے کے امیر ترین طبقات میں مرتکز ہیں۔ اس طرح قرض صرف ایک مالیاتی آلہ نہیں بلکہ دولت کی منتقلی کا ایک طریقۂ کار بھی ہے۔
اصل بحران خود قرض کے بوجھ میں نہیں بلکہ اس کی تخلیق کے استحصالی طریقۂ کار میں پوشیدہ ہے۔ عام تاثر کے برعکس، بینک پہلے سے موجود رقم ادھار نہیں دیتے۔ جدید مالیاتی نظام میں قرض دینا بذاتِ خود نئی رقم پیدا کرتا ہے۔ جب حکومتیں بانڈز جاری کرتی ہیں تو مرکزی بینک اور کمرشل بینک انہیں جمع شدہ بچت سے نہیں بلکہ اپنی بیلنس شیٹ کو وسعت دے کر خریدتے ہیں—یعنی عملاً خریداری کی قوت کو از خود تخلیق کیا جاتا ہے۔
اس عمل میں صرف اصل رقم ( پرنسپل) پیدا کی جاتی ہے؛ سود (پاکستان میں ربا سے بچنے کے لیے جسے ‘منافع بر قرض’ کہا جاتا ہے) پیدا نہیں کیا جاتا۔ یہ سادہ مگر نظرانداز کیا جانے والا حقیقتی پہلو ایک ساختی عدم توازن کو جنم دیتا ہے۔
جب کوئی حکومت سود پر قرض لیتی ہے تو نظام اصل رقم تو پیدا کر دیتا ہے، مگر اس قرض کی ادائیگی کے لیے درکار اضافی رقم پیدا نہیں کرتا۔ یہ خلا صرف مزید قرض لینے، زیادہ ٹیکس عائد کرنے یا اثاثوں کی منتقلی کے ذریعے ہی پُر کیا جا سکتا ہے۔ درحقیقت، یہ نظام اپنی بقا کے لیے مسلسل قرض کے پھیلاؤ کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ اسی نظام کی بنیادی منطق ہے۔ اس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتوں میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ سرکاری مالیات ساختی طور پر قرض پر انحصار کر چکی ہیں۔
حکومتیں خسارے پورے کرنے کے لیے قرض لیتی ہیں، بینک نسبتاً محفوظ سمجھ کر نجی سرمایہ کاری کے بجائے حکومتی قرض کو ترجیح دیتے ہیں، اور حقیقی معیشت کی نمو دب جاتی ہے۔ دولت پیداواری شعبوں کے بجائے مالیاتی اثاثوں میں مرتکز ہونے لگتی ہے۔ پاکستان کی صورتحال کو اکثر ایک استثنا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک عالمی نظام کی مقامی جھلک ہے۔
ملک کی مالی کمزوری—زیادہ قرض کی ادائیگی، کم ترقیاتی اخراجات، اور محدود نجی سرمایہ کاری، اسی ساختی منطق کی عکاس ہے جو ترقی یافتہ معیشتوں پر بھی حاوی ہے۔ فرق صرف شدت کا ہے، نوعیت کا نہیں۔ جب بینک حکومتی سیکیورٹیز سے بغیر خطرے کے منافع کماتے ہیں تو کاروباری سرگرمیوں کی مالی معاونت کی ترغیب کم ہو جاتی ہے۔ جب قرض کی ادائیگی آمدنی کا بڑا حصہ کھا جائے تو انسانی سرمائے میں سرکاری سرمایہ کاری گھٹ جاتی ہے۔ نتیجتاً ترقی کی رفتار سست پڑتی ہے، عدم مساوات بڑھتی ہے اور مالی گنجائش سکڑ جاتی ہے۔
یہی وہ تنقید ہے جسے پاکستانی ماہرِ معاشیات اسد زمان نے واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“سود پر مبنی مالیاتی نظام لازماً بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا باعث بنتا ہے، کیونکہ سرمایہ رکھنے والے بغیر محنت کے منافع حاصل کرتے ہیں، جبکہ جن کے پاس سرمایہ نہیں وہ اجرت کے لیے محنت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتی ہے اور نظام فطری طور پر استحصالی بن جاتا ہے۔“
یہ محض ایک اخلاقی تنقید نہیں بلکہ ایک ساختی تشخیص ہے۔ جب سرمائے کو حقیقی معاشی کارکردگی سے قطع نظر یقینی منافع حاصل ہو تو خطرہ نچلی سطح پر منتقل ہو جاتا ہے جبکہ انعام اوپر کی سطح پر مرتکز ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ مالیاتی دولت اور حقیقی پیداواری صلاحیت کے درمیان مستقل خلیج کی صورت میں نکلتا ہے۔
جدید مالیاتی نظام کے ظہور سے بہت پہلے، ابن خلدون نے سیاسی معیشت کے اپنے تجزیے میں اسی نوعیت کی بصیرت پیش کی تھی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ریاست کی جانب سے حد سے زیادہ وسائل کا اخراج اور غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی بالآخر معاشی توانائی کو کمزور کر دیتی ہے۔ ان کے نزدیک دولت محنت، کاروباری سرگرمی اور گردش کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ ایسی جمع پونجی سے جو پیداوار سے کٹی ہوئی ہو۔ جب معاشی سرگرمی کرایہ خوری ( رینٹ سیکنگ) کے تابع ہو جائے تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
جدید قرضی نظام اسی عمل کو زیادہ پیچیدہ صورت میں دہراتا ہے۔ یہاں صرف براہِ راست ٹیکس ہی نہیں بلکہ ایسے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے بھی وسائل کا اخراج ہوتا ہے جو قرض دہندگان کو پیداوار کرنے والوں پر فوقیت دیتے ہیں۔
سود کی ادائیگیاں، حکومتی بانڈ مارکیٹس اور مالیاتی وساطت مستقبل کی پیداوار پر کئی پرتوں میں دعوے قائم کر دیتی ہیں، جس سے موجودہ معاشی سرگرمی محدود ہو جاتی ہے۔ نتیجہ ایک متضاد معیشت کی صورت میں سامنے آتا ہے، جہاں مالیاتی دولت بڑھتی رہتی ہے مگر حقیقی معاشی صلاحیت جمود کا شکار رہتی ہے۔
اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی متبادل ممکن ہے؟ ایک مختلف ماڈل ایک سادہ مگر انقلابی اصول سے شروع ہوتا ہے: سرمایہ کو کاروبار کے ساتھ خطرہ بھی بانٹنا چاہیے۔ منافع کو پیشگی طور پر یقینی بنانے کے بجائے اسے پیداواری نتائج سے منسلک ہونا چاہیے۔ اس سے مالیاتی نظام قرض کے غلبے سے نکل کر ایکویٹی شراکت کی طرف منتقل ہوتا ہے، جہاں مقررہ دعووں کی جگہ متغیر نتائج آ جاتے ہیں۔ اس فریم ورک میں ترغیبات بنیادی طور پر بدل جاتی ہیں۔ سرمایہ کار قرض دہندگان کے بجائے شراکت دار بن جاتے ہیں، اور سرمایہ محفوظ مگر غیر پیداواری ذرائع کے بجائے قابلِ عمل منصوبوں کی طرف بہنے لگتا ہے۔
کاروباری افراد پر مقررہ ادائیگیوں کا وہ بوجھ نہیں رہتا جو کساد بازاری کے دوران قابلِ عمل کاروبار کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔ مالیاتی استحکام بہتر ہوتا ہے کیونکہ لیوریج کم ہو جاتی ہے اور خطرہ مرتکز ہونے کے بجائے تقسیم ہو جاتا ہے۔
معاشی دباؤ کے وقت نظام کا طرزِ عمل بھی اتنا ہی اہم ہے۔ سخت قرضی نفاذ پر مبنی نظام بحرانوں کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ جب قرض لینے والے مقررہ ادائیگیاں پوری نہیں کر پاتے تو ڈیفالٹس کا سلسلہ پھیل جاتا ہے، جس سے معیشت سکڑتی ہے اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔ اس کے برعکس، لچک، جیسے قرض کی تنظیمِ نو، ادائیگیوں میں مہلت یا نقصان کی شراکت، معاشی تسلسل کو برقرار رکھتی ہے۔
عملی طور پر جدید پالیسی سازوں کو بحرانوں کے دوران ایسے اقدامات اختیار کرنا پڑے ہیں، چاہے وہ حکومتی قرض کی تنظیمِ نو ہو یا کوانٹیٹیٹو ایزنگ۔ تاہم یہ سب ایک بنیادی طور پر غیر تبدیل شدہ نظام کے اندر اصلاحی اقدامات ہیں۔ ایک مربوط متبادل وہ ہوگا جو ان اصولوں کو خود مالیاتی ڈھانچے کا حصہ بنا دے۔
ایک اور اہم پہلو دولت کی گردش ہے۔ جب سرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز رہتا ہے تو مجموعی طلب کمزور پڑتی ہے، جدت کی رفتار سست ہوتی ہے اور سماجی تناؤ بڑھتا ہے۔
معاشی سرگرمیوں میں وسیع بنیادوں پر شرکت صرف ایک سماجی ہدف نہیں بلکہ پائیدار ترقی کے لیے لازمی شرط ہے۔ ایسے مالیاتی نظام جو سرمائے تک وسیع رسائی کو ممکن بناتے ہیں، بجائے اس کے کہ بھاری ضمانتوں پر مبنی قرض تک اسے محدود کریں، طویل مدتی ترقی کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔
شفافیت اور معاہداتی وضاحت بھی اس فریم ورک کو مضبوط بناتی ہیں۔ معاشی نظام وہاں بہتر کام کرتے ہیں جہاں اعتماد کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہو—یعنی قابلِ نفاذ معاہدے، واضح ذمہ داریاں اور جوابدہی۔ اس کے برعکس غیر رسمی معیشت لین دین کی لاگت بڑھاتی ہے اور مالی وسائل تک رسائی محدود کر دیتی ہے۔
پاکستان میں پالیسی بحث زیادہ تر علامات کے علاج تک محدود رہی ہے، جیسے ٹیکس کی شرحیں، سبسڈیز اور بیرونی مالی معاونت۔ یہ اقدامات ضروری تو ہیں مگر کافی نہیں۔ مالیات کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی زیرِ بحث نہیں آتا۔ جب تک ترقی کا انحصار پیداواری سرمایہ کاری کے بجائے قرض کے پھیلاؤ پر رہے گا، ساختی رکاوٹیں برقرار رہیں گی۔
عالمی سطح پر قرض کے بوجھ کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کوئی ضمنی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظامی مسئلہ ہے۔ ایسا معاشی نظام جو اپنی بقا کے لیے مسلسل قرض پر انحصار کرے، طویل مدت تک مستحکم نہیں رہ سکتا۔ چاہے یہ ایڈجسٹمنٹ مہنگائی، مالیاتی بحرانوں یا بتدریج جمود کی صورت میں آئے، نظام کو بالآخر خود کو ڈھالنا پڑے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی منظم انداز میں ہوگی یا مسلط ہو کر آئے گی۔
پاکستان کے لیے یہ انتخاب خاص طور پر واضح اور دو ٹوک ہے۔ موجودہ راستے پر چلتے رہنے کا مطلب ہے قرض پر بڑھتا ہوا انحصار، بیرونی جھٹکوں کے مقابل زیادہ کمزوری، اور دولت کا مزید ارتکاز۔ اس کے برعکس، خطرے کی شراکت پر مبنی مالیات، پیداواری سرمایہ کاری اور شمولیتی ترقی کی طرف پیش رفت ایک زیادہ پائیدار راستہ فراہم کرتی ہے۔ یہ کوئی خیالی تصور نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت ہے جو تاریخی بصیرت اور موجودہ حقائق دونوں پر مبنی ہے۔
یہ تاثر کہ قرض ہمیشہ دولت کی تخلیق کا متبادل بن سکتا ہے، اب ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔ جو ممالک اس حقیقت کو بروقت سمجھ کر اپنے مالیاتی نظام کی ازسرِ نو تشکیل کریں گے، وہ دیرپا خوشحالی حاصل کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments