BR100 Decreased By (-0.95%)
BR30 Decreased By (-1.6%)
KSE100 Decreased By (-0.82%)
KSE30 Decreased By (-0.83%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.06 Decreased By ▼ -0.29 (-0.96%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.89 Decreased By ▼ -0.25 (-0.27%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.56 (-2.86%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.11 Decreased By ▼ -0.35 (-1.32%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -2.26 (-2.43%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -3.73 (-1.18%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.53 (-1.49%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 220.99 Decreased By ▼ -5.92 (-2.61%)
PRL 90.85 Decreased By ▼ -2.17 (-2.33%)
SNGP 90.55 Decreased By ▼ -1.29 (-1.4%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.52 Decreased By ▼ -0.28 (-3.59%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑ دیا، تیل برآمد کرنے والے عالمی گروپ کو شدید دھچکا

  • اوپیک خلیج کے پروڈیوسر آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

متحدہ عرب امارات نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑ رہا ہے، جس سے تیل برآمد کرنے والے گروپ اور ان کے غیر رسمی رہنما سعودی عرب کو شدید دھچکا لگا، ایسے وقت میں جب ایران کی جنگ نے تاریخی توانائی کے بحران کو جنم دیا اور عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم( اوپیک) چھوڑنے کے اعلان نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ طویل عرصے سے اوپیک کا رکن رہنے والے یواے ای کے اس اقدام سے گروپ میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے اور اس کی یکجہتی کمزور ہو سکتی ہے، جو عام طور پر جغرافیائی سیاست سے لے کر پیداوار کے کوٹے تک مختلف مسائل پر اندرونی اختلافات کے باوجود ایک متحدہ موقف دکھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

خلیجی اوپیک پیدا کرنے والے ممالک پہلے ہی ہرمز کی تنگی کے ذریعے اپنی برآمدات پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ راستہ ایران اور عمان کے درمیان ایک تنگ گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے عام طور پر دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، لیکن ایرانی خطرات اور جہازوں پر حملوں کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

یو اے ای کا اوپیک چھوڑنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی کامیابی کے مترادف ہے، جنہوں نے اس تنظیم پر عالمی تیل کی قیمتیں بڑھا کر دنیا کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹرمپ نے خلیج میں امریکی فوجی حمایت کو بھی تیل کی قیمتوں سے جوڑا ہے، اور کہا ہے کہ امریکہ اوپیک کے ارکان کا دفاع کرتا ہے، جبکہ وہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل کی قیمتیں بلند کرتے ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب یواے ای، جو خطے کا کاروباری مرکز اور واشنگٹن کا اہم اتحادی ہے، نے جنگ کے دوران متعدد ایرانی حملوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے دیگر عرب ریاستوں کی ناکافی کوششوں پر تنقید کی۔

متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور گرگاش نے پیر کے روز گلف انفلوئنسرز فورم (جی آئی ایف ) میں ایرانی حملوں کے جواب میں عرب اور خلیجی ردعمل پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا، ”خلیجی تعاون کونسل کے ممالک نے ایک دوسرے کی لاجسٹک مدد کی، لیکن سیاسی اور فوجی طور پر، میرا خیال ہے کہ ان کا موقف تاریخی طور پر سب سے کمزور رہا ہے۔“

گرگاش نے مزید کہا، ”میں عرب لیگ کی کمزور پوزیشن کی توقع کر رہا تھا اور اس پر حیران نہیں ہوں، لیکن خلیجی تعاون کونسل سے میں یہ توقع نہیں کر رہا تھا اور اس پر میں حیران ہوں۔“

Comments

200 حروف