بانی پی ٹی آئی کا پمز میں آنکھوں کا دوبارہ چیک اپ، بیرسٹر گوہر کی تصدیق
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں ایک بار پھر آنکھوں کا معائنہ کیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں حکام سے مطالبہ کیا کہ قید میں موجود پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ذاتی معالجین کی نگرانی میں اسپتال منتقل کیا جائے۔
مجھے ابھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ خان صاحب کو گزشتہ رات آنکھوں میں انجکشن لگوانے اور طبی معائنے کے لیے پمز لے جایا گیا تھا۔
انہوں نے کہ علاج چاہے جو بھی ہو، ہمارا مطالبہ اب بھی برقرار ہے کہ خان صاحب اور بشریٰ بی بی کو ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کیلئے اسپتال منتقل کیا جائے اور اہل خانہ کو ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے بیان دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے اور ان کی جماعت طویل عرصے سے اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کررہی ہے۔
یاد رہے کہ جنوری میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اکلوژن کی تشخیص ہوئی تھی جس کے نتیجے میں خون کی شریان میں خطرناک رکاوٹ پیدا ہوئی جو بینائی کو متاثر کررہی ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جیل میں سابق وزیراعظم کا معائنہ کرنے والے طبی ماہرین نے ان کی حالت کو انتہائی حساس اور تشویشناک قرار دیا اور خبردار کیا ہے کہ مناسب علاج میں کسی بھی قسم کی تاخیر ان کی بینائی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مناسب طبی امداد فراہم نہ کرنا عمران خان کی بینائی اور مجموعی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی مستقل نقصان کی صورت میں حکام ذمہ دار ہوں گے۔
21 اپریل کو اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ پارٹی اپنے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی حراست پارٹی قیادت کے لیے بدستور ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی طبی بنیادوں پر فوری رہائی اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔


Comments