واشنگٹن ڈنر فائرنگ کیس، ملزم پر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد
- 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کو پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار شخص پر باضابطہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کو پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے صدر کو قتل کرنے کی کوشش کی۔
حکام کے مطابق ایلن نے وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے کے دوران حملہ کیا، جو صحافیوں اور سیاستدانوں کی ایک اہم تقریب ہوتی ہے۔ عدالت میں پیشی کے دوران ملزم کو ہتھکڑیوں میں لایا گیا جبکہ اس نے الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
استغاثہ کی وکیل جوسلین بیلنٹائن نے کہا کہ ملزم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت صدر پر حملہ کیا۔ قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش کے مطابق ایلن نے صدر کو غدار قرار دیتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ کو بھیجے گئے ایک ای میل میں حملے کا عندیہ دیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم اپنے ساتھ 12 بور شاٹ گن، تین چاقو اور ایک نیم خودکار پستول لے کر آیا تھا۔ حکام نے اس کے قبضے سے فائر شدہ کارتوس بھی برآمد کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے فائرنگ کی۔
عدالت نے ایلن کو کم از کم جمعرات تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے، جہاں اس کی ضمانت یا مزید حراست سے متعلق سماعت ہوگی۔ استغاثہ نے عندیہ دیا ہے کہ ملزم کے خلاف مزید الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یہ واقعہ امریکہ میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے رجحان کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اعلیٰ حکام کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔


Comments