عالمی غیر یقینی، ماہرین کی شرح سود برقرار رہنے کی پیش گوئی
- 61 فیصد شرکاء شرح سود میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے، رپورٹ
مارکیٹ تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک پیر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دنیا اس وقت غیر یقینی صورتحال کے درمیان امن کے لیے مذاکرات کررہی ہے لہٰذا ایسے وقت میں ہمارا ماننا ہے کہ پالیسی کو جذباتیت کے بجائے نظم و ضبط کی طرف جھکاؤ برقرار رکھنا چاہیے۔ ہمیں توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک اپریل 2027 کی مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کا خیال ہے کہ عالمی حالات بدستور غیر یقینی ہیں اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی مارکیٹ کے رجحانات پر مسلسل اثر انداز ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماحول میں تیل ایک سوئنگ فیکٹر بنا ہوا ہے، یعنی ایسا عنصر جو مارکیٹ کو تیزی سے اوپر یا نیچے لے جا سکتا ہے لیکن اتنا مستحکم نہیں کہ کسی واضح اور مستقل رجحان کی نشاندہی کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام بیرونی عوامل کے اثرات مقامی قیمتوں میں تو منتقل ہوئے ہیں لیکن اس سے مہنگائی کا عمومی ڈھانچہ غیر مستحکم نہیں ہوا۔ ٹرانسپورٹ شعبے میں مہنگائی کی شرح میں شدید اضافہ دیکھا گیا، یعنی مارچ میں ماہانہ بنیادوں پر 12 فیصد اور اپریل میں اس کے تقریباً 15 فیصد رہنے کی توقع ہے تاہم اس کے دیگر اثرات اب بھی قابو میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے دوسرے مرحلے کے دباؤبڑھنے کے تاحال کوئی واضح ثبوت نہیں ملے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل پر نظر ڈالیں تو مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سی پی آئی کا دوبارہ دہائی کے ہندسے (ڈبل ڈیجٹ) کی طرف جانا بڑے پیمانے پر بیس ایفیکٹ کی وجہ سے ہے جو کہ عارضی نوعیت کا ہے اور طلب میں اضافے کے بجائے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کی وجہ سے ہے۔
اس قلیل مدتی اضافے کے بعد اگر بیرونی حالات مستحکم رہتے ہیں تو ہمارا بنیادی تخمینہ برقرار ہے جس کے مطابق مالی سال 2026 میں مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد اور مالی سال 2027 میں 8.5 فیصد رہے گی جبکہ کور انفلیشن 8 فیصد تک محدود رہے گی۔
یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق تھا جس میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ مرکزی بینک مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں موجودہ صورتحال (اسٹیٹس کو) برقرار رکھے گا۔ ان تنازعات کی وجہ سے توانائی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
دریں اثنا عارف حبیب لمیٹڈ نے اپنے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 61 فیصد شرکاء شرح سود میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے، 19 فیصد نے 50 بیسس پوائنٹس، 17 فیصد نے 100 بیسس پوائنٹس جبکہ 3 فیصد نے 150 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
فی الحال صبر ہی سب سے زیادہ دانشمندانہ انتخاب ہے۔ مذاکرات ختم ہونے دیں اور ان کے نتائج سامنے آنے دیں۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ جون 2026 میں آنے والی اگلی پالیسی وفاقی بجٹ کے ساتھ مل کر حالات کا زیادہ واضح منظرنامہ پیش کرے گی جس کی بنیاد پر اگر ضرورت پڑی تو (پالیسی میں) دوبارہ ردو بدل کیا جا سکے گا۔


Comments