پیک ریلیف اسٹریٹیجی، حکومت نے شیڈولڈ بجلی بندش کا آغاز کر دیا
- پاور ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ شام کے اوقات میں قومی گرڈ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے
وفاقی حکومت نے شام کے اوقات (شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک) میں زیادہ سے زیادہ 2.25 گھنٹے تک شیڈولڈ بجلی بندش کا اعلان کیا ہے، جسے پیک ریلیف اسٹریٹیجی کا نام دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو منظم کرنا اور پیداواری لاگت کو قابو میں رکھنا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق یہ فیصلہ شام کے اوقات میں قومی گرڈ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ موسم کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں کمی ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام کے وقت طلب پوری کرنے کے لیے مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کی گئی تو اس سے بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس خطرے کو کم کرنے کے لیے حکام نے محدود اور مقررہ اوقات میں بجلی بندش کا راستہ اپنایا ہے تاکہ فرنس آئل سمیت مہنگے ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کو روکنا ہے، اور یہ روایتی لوڈشیڈنگ نہیں بلکہ لاگت کے انتظام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود جولائی سے فروری کے دوران اوسط بجلی قیمت میں 71 پیسے فی یونٹ کمی آئی ہے، جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف ملا ہے۔ یہ کمی اصلاحات، میرٹ آرڈر پر سخت عمل درآمد، بہتر منصوبہ بندی اور پاور سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری کا نتیجہ قرار دی گئی ہے۔
اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی پیداواری صلاحیت کافی ہے، تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ معاشی طور پر شام کے پیک اوقات میں طلب کو منظم کرنا ایک چیلنج ہے۔ اس صورتحال کی نگرانی اعلیٰ سطح پر کی جا رہی ہے اور وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ مہنگے ایندھن کے محدود استعمال کے باوجود ٹیرف میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے۔
صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 80 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس پاور پلانٹس کو فراہم کی گئی ہے، جس سے بجلی کے نرخ میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے سے بچاؤ ممکن ہوا ہے اور مزید لوڈ مینجمنٹ کی ضرورت کم ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ شیڈولڈ بندشیں بجلی کے نرخ میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ اضافے کو روکنے میں مدد دیں گی، تاہم اب بھی تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو ٹیرف میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔
ڈسٹری بیوشن کمپنیوں(ڈسکوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فیڈر وائز لوڈشیڈنگ کا شیڈول عوام کے ساتھ شیئر کریں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور صارفین کو کم سے کم مشکلات ہوں۔ مزید یہ کہ مقررہ شیڈول کے علاوہ کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، سوائے تکنیکی خرابی کی صورت میں، جس کی فوری اطلاع دینا لازمی ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments