امریکہ کا ایران کی ناکہ بندی کا اعلان، خام تیل کی قیمتیں 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں
- برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 102.23 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 102.23 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً 7.31 فیصد اضافے کے ساتھ 103.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس خدشے کے باعث ہوا کہ امریکا ایرانی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے ذریعے ایران کی بندرگاہوں تک جانے والے جہازوں کو روکنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ اقدام تمام ان بحری جہازوں پر لاگو ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا خارج ہوں گے، تاہم دیگر ممالک کے لیے آبنائے ہرمز میں آمدورفت جاری رہے گی۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے یومیہ تقریباً 2 ملین بیرل ایرانی تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سپلائی مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔ دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے پانیوں کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ادھر سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی مشرق سے مغرب پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کی مکمل صلاحیت بحال کر لی ہے، جو یومیہ تقریباً 7 ملین بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ برقرار ہے۔


Comments