BR100 Decreased By (-0.64%)
BR30 Decreased By (-0.78%)
KSE100 Decreased By (-0.36%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 57.12 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 27.47 Decreased By ▼ -0.15 (-0.54%)
BOP 33.95 Decreased By ▼ -0.66 (-1.91%)
CNERGY 10.95 Increased By ▲ 0.19 (1.77%)
DFML 18.20 Decreased By ▼ -0.21 (-1.14%)
DGKC 213.33 Decreased By ▼ -0.54 (-0.25%)
FABL 100.96 Decreased By ▼ -0.51 (-0.5%)
FCCL 55.85 Decreased By ▼ -0.62 (-1.1%)
FFL 16.21 Decreased By ▼ -0.64 (-3.8%)
GGL 25.08 Decreased By ▼ -0.68 (-2.64%)
HBL 306.84 Decreased By ▼ -1.34 (-0.43%)
HUBC 223.01 Decreased By ▼ -1.38 (-0.62%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.24 (-2.24%)
KEL 7.39 Decreased By ▼ -0.08 (-1.07%)
LOTCHEM 27.70 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
MLCF 96.91 Increased By ▲ 0.35 (0.36%)
OGDC 321.00 Decreased By ▼ -2.45 (-0.76%)
PAEL 43.19 Decreased By ▼ -0.18 (-0.42%)
PIBTL 16.73 Decreased By ▼ -0.07 (-0.42%)
PIOC 287.58 Decreased By ▼ -8.31 (-2.81%)
PPL 222.84 Decreased By ▼ -1.83 (-0.81%)
PRL 59.15 Increased By ▲ 3.64 (6.56%)
SNGP 103.86 Decreased By ▼ -0.81 (-0.77%)
SSGC 25.96 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
TELE 8.56 Decreased By ▼ -0.09 (-1.04%)
TPLP 12.76 Decreased By ▼ -0.42 (-3.19%)
TRG 60.39 Increased By ▲ 0.34 (0.57%)
UNITY 10.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.39%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.04 (-3.17%)
مارکٹس

امریکہ کا ایران کی ناکہ بندی کا اعلان، خام تیل کی قیمتیں 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں

  • برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 102.23 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 102.23 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً 7.31 فیصد اضافے کے ساتھ 103.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس خدشے کے باعث ہوا کہ امریکا ایرانی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے ذریعے ایران کی بندرگاہوں تک جانے والے جہازوں کو روکنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ اقدام تمام ان بحری جہازوں پر لاگو ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا خارج ہوں گے، تاہم دیگر ممالک کے لیے آبنائے ہرمز میں آمدورفت جاری رہے گی۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے یومیہ تقریباً 2 ملین بیرل ایرانی تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سپلائی مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔ دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے پانیوں کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

ادھر سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی مشرق سے مغرب پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کی مکمل صلاحیت بحال کر لی ہے، جو یومیہ تقریباً 7 ملین بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ برقرار ہے۔

Comments

200 حروف