ایف پی سی سی آئی کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا خیرمقدم، بڑا ریلیف قرار دے دیا
- سپلائی چین کے تمام مراحل میں اضافی ریلیف ملے گا، عاطف اکرام شیخ
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 134.81 روپے فی لیٹر کی نمایاں کمی کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی تجارتی باڈی نے 2 اپریل کے تباہ کن اضافے کو سختی سے مسترد کر دیا تھا اور ڈیزل کی قیمتوں کو معقول بنانے کے ساتھ ساتھ تجارت اور صنعت کے لیے ایک حفاظتی طریقہ کار کی پرزور وکالت کی تھی۔
عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا کہ مرکزی تجارتی باڈی نے اس نمایاں کمی کو جس نے ڈیزل کے ریٹ کو 520.35 روپے سے کم کر کے 385.54 روپے فی لیٹر کر دیا ہے تجارت، صنعت اور عام عوام کے لیے ایک انتہائی ضروری ریلیف اور سکھ کا سانس قرار دیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے پٹرول کی قیمتوں میں 11.83 روپے فی لیٹر کمی (جو اب 366.58 روپے ہے) کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے سپلائی چین کے تمام مراحل میں اضافی ریلیف ملے گا۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف پی سی سی آئی پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں مزید عارضی کمی یا علاقائی تیل کی منڈیوں کے مستحکم ہونے تک اسے معطل کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے میکرو اکانومی اور پاکستان کے برآمدی شعبوں کی بقا پر اس کے مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مزید کہا جب ڈیزل 520 روپے کے ہندسے کو عبور کرگیا تو اس نے ہماری ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ صنعتوں کا پہیہ جام کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ ڈیزل ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو براہ راست ہماری ٹرانسپورٹ، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے وضاحت کی کہ اس ریلیف سے کاروبار کرنے کی لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوگی جس سے کلیدی صنعتوں کے لیے پیداواری اخراجات میں 5 سے 10 فیصد تک کمی آسکتی ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ہماری برآمدات زیادہ مسابقت کے قابل بن سکیں گی۔
ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس سلسلے کو برقرار رکھے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والی مزید کمی کے ثمرات جلد از جلد ملکی صنعت تک پہنچائے۔
ثاقب فیاض مگوں سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور مجموعی طور پر قومی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو ملنے والے فوری مالی ریلیف کی نشاندہی کی۔
ثاقب فیاض مگوں نے نشاندہی کی کہ لاجسٹکس اور فریٹ چارجز نے ملک بھر میں سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا تھا ، حالیہ ایندھن کے بحران کے دوران ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 60 فیصد تک اضافہ ہو گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل کی قیمت 385.54 روپے فی لیٹر تک لانے سے خام مال اور تیار شدہ سامان کی نقل و حمل کے اخراجات میں ضروری کمی آئے گی۔
عبدالمہیمن خان نائب صدر اور ریجنل چیئرمین سندھ، نے صوبے کے معاشی منظر نامے ، خاص طور پر زراعت اور بھاری مقامی مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے لیے اس کے مخصوص فوائد پر روشنی ڈالی۔
عبدالمہیمن خان نے وضاحت کی کہ سندھ پاکستان کی صنعتی پیداوار اور زرعی پیداوار دونوں کے لیے ایک بڑا مرکز ہے۔ ایندھن کے پچھلے جھٹکے نے فصلوں کی بوائی کو تیزی سے ناممکن بنا دیا تھا اور کٹائی کے موسم سے قبل بڑے پیمانے پر نقصانات کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔
134.81 روپے فی لیٹر کی یہ کمی ڈیزل سے چلنے والے ٹریکٹرز اور آبپاشی کے پمپ استعمال کرنے والے ہمارے کسانوں کے ساتھ ساتھ کراچی کی بندرگاہوں سے شروع ہونے والی بھاری لاجسٹکس پر انحصار کرنے والی صنعتوں کے لیے بھی آپریشنل اخراجات کو کم کرے گی۔


Comments