وزارتِ تجارت انشورنس ایکٹ 2026 کی منظوری کے لیے کابینہ سے رجوع کرے گی
- گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انشورنس سیکٹر میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ وزارتِ تجارت مجوزہ انشورنس ایکٹ 2026 کے لیے کابینہ سے منظوری حاصل کرنے کی تیاری کررہی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے انشورنس سیکٹر کو جدید عالمی معیارات کے مطابق بنانا، قانونی ڈھانچے کو سادہ بنانا اور ریگولیٹری نگرانی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ تجارت نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ انشورنس آرڈیننس 2000 نے انشورنس ایکٹ 1938 کی بیشتر دفعات کی جگہ لے لی تھی، سوائے ان کے جن کا تعلق پرانے معاہدوں سے تھا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انشورنس سیکٹر میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جس کے باعث ایک ایسے جدید قانون سازی کے ڈھانچے کی ضرورت ہے جو مارکیٹ کی عصرِ حاضر کی ضروریات، بین الاقوامی ریگولیٹری طریقہ کار اور ابھرتے ہوئے گورننس کے معیارات سے ہم آہنگ ہو۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی نے 2 فروری 2024 کو منعقدہ اپنے نویں اجلاس میں انشورنس سیکٹر کی اصلاحات کے لیے اہم پالیسی اہداف کی توثیق کی تھی۔ ان اہداف میں مقابلے کی فضا کو بہتر بنانا، عالمی انشورنس کمپنیوں کو رسائی فراہم کرنا، نفاذِ قانون کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، سرکاری شعبے کی انشورنس کمپنیوں کی کارپوریٹائزیشن اور ڈیوسٹمنٹ (نجکاری/حصص کی فروخت) اور اس صنعت کو عالمی طریقہ کار کے مطابق بنانا شامل ہے۔
ان پالیسی ہدایات کی روشنی میں وزارتِ تجارت نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، وزارتِ خزانہ، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور سرکاری ملکیتی اداروں سمیت تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی ہے اور انشورنس آرڈیننس 2000 میں ترامیم کے لیے تجاویز تیار کی ہیں۔
یہ معاملہ بعد ازاں وزارتِ قانون کو بھیجا گیا جس نے مشورہ دیا کہ ’رولز آف بزنس 1973‘ کے رول (1)16(اے) کے ساتھ پڑھے جانے والے رول (1)27 کے تحت، بل کی باضابطہ ڈرافٹنگ سے قبل وفاقی کابینہ سے اصولی منظوری حاصل کی جانی چاہیے۔ چنانچہ، وزیر اعظم نے 21 ستمبر 2025 کو اس تجویز کو کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دی۔
وزارتِ تجارت نے سی سی ایل سی کو مزید آگاہ کیا کہ 30 دسمبر 2025 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں کمیٹی نے ترامیم کی تجویز پر غور کیا تھا لیکن یہ مشاہدہ کیا کہ موجودہ قانون میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں پیچیدہ اور وقت طلب ہوں گی، لہٰذا کمیٹی نے ہدایت دی کہ وزارتِ قانون کی مشاورت سے ایک نیا ڈرافٹ قانون تیار کیا جائے جس میں تمام مجوزہ ترامیم شامل ہوں اور نئے قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی انشورنس آرڈیننس 2000 کو منسوخ کردیا جائے۔
ان ہدایات کی روشنی میں کامرس ڈویژن نے پہلے سے مجوزہ ترامیم کو شامل کرتے ہوئے انشورنس ایکٹ 2026 کا ڈرافٹ تیار کرلیا، اس مجوزہ قانون سازی کا مقصد موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کی خامیوں کو دور کرنا ہے جس کے لیے عالمی معیارات کے مطابق جدید تصورات متعارف کرائے جائیں گے، تفصیلی دفعات کو ذیلی قواعد میں منتقل کرکے قانونی ڈھانچے کو سادہ بنایا جائے گا، مارکیٹ میں مزید کشادگی کے ذریعے مقابلے کی فضا کو فروغ دیا جائے گا اور انشورنس سیکٹر میں مارکیٹ کنڈکٹ، نگرانی اور عدالتی تصفیے کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔
وزارتِ تجارت نے سی سی ایل سی کو آگاہ کیا کہ ڈرافٹ قانون کو جانچ پڑتال کے لیے 9 فروری 2026 کو وزارتِ قانون بھیجا گیا تھا۔ معائنے کے بعد وزارتِ قانون نے 4 مارچ 2026 کو مطلع کیا کہ ڈرافٹ کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی ہے اور یہ ہر لحاظ سے درست ہے، ساتھ ہی کامرس ڈویژن کو ’رولز آف بزنس 1973‘ کے مطابق مزید کارروائی آگے بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
رول (1)16(a) کے تحت، قانون سازی کی تجاویز سی سی ایل سی کے معائنے کے بعد وفاقی کابینہ کو پیش کرنا لازمی ہیں۔ چنانچہ انشورنس ایکٹ 2026 کا منظور شدہ ڈرافٹ، انشورنس آرڈیننس 2000 اور مجوزہ قانون کے تقابلی جائزے کے ہمراہ کمیٹی کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔
سی سی ایل سی نے 10 مارچ 2026 کو منعقدہ اپنے اجلاس میں انشورنس ایکٹ 2026 کے ڈرافٹ کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ وزارتِ تجارت اب قومی اسمبلی یا سینیٹ میں مزید قانون سازی کے عمل کے لیے پیش کرنے سے پہلے وفاقی کابینہ سے مجوزہ قانون کی باضابطہ منظوری حاصل کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments