پٹرولیم لیوی میں کٹوتی، بجٹ ہدف پر نظرثانی کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول پر پٹرولیم لیوی کی شرح میں ایک ماہ کے لیے 80 روپے فی لٹر کمی کے فیصلے کے نتیجے میں رواں مالی سال کے لیے مقررہ بجٹ لیوی ہدف پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔
جمعہ کو وزیراعظم شہبازشریف نے پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لٹر کی بڑی کمی کا اعلان کیا جس کے بعد لیوی کی شرح 160.61 روپے سے کم ہو کر 80.61 روپے فی لٹر رہ گئی، اس فیصلے کا اطلاق 4 اپریل 2026 سے ہوچکا ہے۔
اس رعایت کے نتیجے میں پٹرول کی قیمت 458.41 روپے سے گر کر 378.41 روپے فی لٹر پر آگئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے پر برقرار رکھی گئی۔
جمعرات کو حکومت پہلے ہی ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد 55.24 روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی کو ختم کرچکی تھی جب کہ اسی تناسب سے پٹرول پر لیوی کی شرح میں اضافہ کرکے اسے ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔
حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے تاکہ قیمتوں کو کم رکھا جا سکے کیونکہ ڈیزل زراعت اور پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
رواں مالی سال کے لیے فنانس بل 26-2025 کے ذریعے پٹرولیم لیوی کی حد پر سے کیپ ختم کر کے 1.468 ٹریلین روپے کا بجٹ ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ پہلے چھ ماہ کے دوران حکومت نے پٹرول پر پٹرولیم لیوی کی مد میں 82 ارب روپے جمع کیے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اس حالیہ کمی کا اعلان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments