وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی
- جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تجویز مسترد کردی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود فیول ریٹس کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کے تناظر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 50 روپے اور ڈیزل میں 74 روپے اضافے کی تجویز موصول ہوئی تھی، تاہم انہوں نے یہ بوجھ عوام پر منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ میری اولین ترجیح عام آدمی کا تحفظ ہے، حکومت عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ خود برداشت کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پٹرول میں مجموعی طور پر 76 روپے فی لٹر اور ڈیزل میں 177 روپے فی لٹر اضافے کی تجاویز بھی مسترد کر دی گئی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر حکومت نے قیمتوں میں اضافے کی تجویز کو رد کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت پہلے ہی پٹرول میں مجموعی طور پر 127 روپے فی لٹر اور ڈیزل میں 252 روپے فی لٹر اضافے کو روکنے کے لیے 69 ارب روپے خرچ کرچکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے فنڈز استعمال کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دی اور صارفین کو ریلیف فراہم کیا۔
خطاب کے آغاز میں وزیراعظم نے رمضان اور عید کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ دنیا اس وقت جنگ کے باعث ایک غیر معمولی چیلنج کا سامنا کررہی ہے جس نے تیل کی قیمتوں کو دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث سپلائی چینز متاثر ہوئی ہیں جس سے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایثار، محنت اور ہمدردی جیسے اقدار کی ضرورت ہے۔
دو ہفتے قبل حکومت نے انہی عالمی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے (تقریباً 20 فیصد) اضافہ کیا تھا۔
پٹرول کی قیمت میں اضافہ عالمی رجحان سے زیادہ تھا، کیونکہ حکومت کا مقصد اضافی آمدن حاصل کر کے ڈیزل پر سبسڈی دینا تھا، جو زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔
گزشتہ ہفتے عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے باوجود وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے عوام سے کیا گیا وعدہ نبھاتے ہوئے فیول قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔


Comments