محفوظ ٹھکانے اور معاونت
- فروری کے آخر میں کی جانے والی کارروائیوں کا ہدف تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان جیسی تنظیموں کے کیمپ اور سپورٹ سہولیات تھیں
پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر نے افغانستان کے اندر پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر تنقید کو مسترد کرکے درست کیا اور موجودہ کشیدگی کے پسِ منظر میں ایک تکلیف دہ حقیقت کو اجاگر کیا: وہ عسکری گروہ جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں، اب بھی افغان علاقے سے کام کر رہے ہیں، جبکہ بھارت بار بار اس ماحول کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ تبادلہ خیال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی تنقید اور افغانستان کے نمائندے کے پاکستان کی سرحد پار کارروائیوں کے حوالے سے بیان کے بعد ہوا۔ اسلام آباد کا جواب براہ راست تھا۔
فروری کے آخر میں کی جانے والی کارروائیوں کا ہدف تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان جیسی تنظیموں کے کیمپ اور سپورٹ سہولیات تھیں، جو پاکستانی شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور انفراسٹرکچر پر بار بار حملوں کی ذمہ دار ہیں۔ پاکستان کے نمائندے نے زور دیا کہ یہ کارروائیاں دفاع کے تسلیم شدہ حق کے تحت کی گئیں اور صرف پاکستان کے لیے خطرہ بننے والے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
اصل مسئلہ قانونی بحث سے کہیں آگے جاتا ہے۔ یہ افغانستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور کابل حکام کی بار بار یقین دہانی کے باوجود ان کو ختم نہ کرنے کی ناکامی سے متعلق ہے۔
سالوں سے پاکستان افغان طالبان سے یہ تقاضا کرتا رہا ہے کہ افغان علاقے کو پڑوسی ریاستوں کے خلاف حملے شروع کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ لیکن سرحد پار دراندازی اور عسکری کارروائیاں جاری رہی ہیں، جس سے پاکستان کی سیکیورٹی اور استحکام پر بھاری اثر پڑا ہے۔
یہ حقیقت متعدد بین الاقوامی جائزوں میں تسلیم کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی نگرانی رپورٹس بار بار افغانستان میں عسکری گروہوں، بشمول ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کی موجودگی کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ یہ تنظیمیں افغانستان کے نازک سیکیورٹی ماحول سے فائدہ اٹھا کر خطے میں حملے کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اس کی سرحدوں سے باہر پیدا ہوتے ہیں مگر اس کے شہریوں اور اداروں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
صورت حال کو مزید تشویشناک بنانے والا عنصر بھارت کا کردار ہے۔ پاکستان کے نمائندے نے سلامتی کونسل میں واضح کیا کہ نئی دہلی افغانستان کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت عسکری گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی، کو حمایت اور ہمت افزائی فراہم کرتا ہے۔
سلامتی کونسل میں بھارت کی مداخلت متوقع دلیل پر مبنی تھی۔ اس کے نمائندے نے پاکستان کی فضائی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں پر تنقید کی، لیکن افغانستان کے علاقے سے پاکستان کو بار بار نشانہ بنانے والے عسکری نیٹ ورکس کی موجودگی پر خاموش رہے۔ یہ انتخابی نقطہ نظر اس مرکزی مسئلے سے نظر بچاتا ہے جس نے موجودہ کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
لہٰذا پاکستان کا جواب قومی دفاع کے سیاق و سباق میں سمجھا جانا چاہیے۔ کوئی ملک اپنی سرحدوں سے باہر پیدا ہونے والے حملوں کو ہمیشہ برداشت نہیں کر سکتا بغیر اس خطرے کو ختم کیے۔ اسلام آباد نے بار بار کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف دہشت گرد کیمپ اور لاجسٹک مراکز پر مرکوز ہیں، نہ کہ افغان عوام پر۔
پاکستان کا تنازعہ افغان عوام کے ساتھ نہیں، جو سرحد پار دیرینہ سماجی، اقتصادی اور ثقافتی روابط رکھتے ہیں۔ مسئلہ ان عسکری تنظیموں کا ہے جو افغان علاقے سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور ان کا انفراسٹرکچر برقرار رہنے کی وجہ سے سرحدی کشیدگی بار بار پیدا ہوتی ہے۔ جب تک یہ محفوظ ٹھکانے ختم نہیں کیے جاتے، سرحد پر کشیدگی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
چین کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پیشکش بڑھتی ہوئی اس بات کا اعتراف ہے کہ صورتحال محتاط انتظام کی متقاضی ہے۔ مذاکرات اور ثالثی کشیدگی کم کرنے کے اہم اوزار ہیں۔
تاہم مستقل استحکام صرف اس وقت ممکن ہے جب مرکزی سیکیورٹی خدشات کو حل کیا جائے جو پاکستان نے بار بار اٹھائے ہیں، یعنی افغانستان کے علاقے سے کام کرنے والے عسکری نیٹ ورکس کی موجودگی۔
پاکستان کا اقوام متحدہ میں پیغام اس لیے ضروری اوربروقت تھا۔ اپنی مغربی سرحد پر دہشت گرد محفوظ ٹھکانوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور اس کی سرزمین پر حملے لازمی طور پر جواب کو جنم دیں گے۔ خطے میں استحکام کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا افغان حکام ان عسکری نیٹ ورکس کا مقابلہ کرتے ہیں اور آیا بیرونی فریق افغانستان کے سیکیورٹی ماحول کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوششیں ترک کرتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments