پاکستان افغانستان سرحدی جھڑپیں، روس اور ایران کا بات چیت پر زور
- ایران نے تصادم کو حل کرنے کے لیے بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی
روس نے افغانستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدی حملوں کو فوری طور پر بند کریں اور اپنے اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں، خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ کے حوالے سے رپورٹ دی۔
اس دوران ایران نے تصادم کو حل کرنے کے لیے بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک ٹویٹ میں کہا، اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو آسان بنایا جا سکے اور باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بیانات سرحدی جھڑپوں میں شدت کے دوران سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جمعہ کے روز بلا اشتعال سرحدی فائرنگ کے فوری اور مؤثر جواب میں کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 133 افغان طالبان ارکان کو ہلاک اور 200 سے زائد کو زخمی کیا۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے ٹویٹ میں بتایا کہ کابل، پکتیا اور قندھار میں حملے ہوئے، 27 پوسٹس تباہ اور 9 قبضے میں لے لی گئیں۔ مزید کہا کہ دو کور ہیڈکوارٹر، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹر، دو گولہ بارود کے ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹر، دو سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 80 سے زائد ٹینک، آرٹلری اور آرمرڈ پرسنل کیریئر تباہ کیے گئے۔
جھڑپوں کے دوران دو پاکستانی فوجی بھی شہید اور تین زخمی ہوئے۔
ادھر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس تنازعے کو کھلی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب یہ ہم اور آپ (افغانستان) کے درمیان کھلی جنگ ہے۔
یہ تصادم سرحدی سیکورٹی اور باہمی اعتماد کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے، اور خطے میں تناؤ بڑھنے کا باعث بن رہا ہے۔


Comments