باجوڑ حملے میں افغان سرزمین کے استعمال پر پاکستان کا کابل حکومت سے شدید احتجاج، احتجاجی مراسلہ جاری
- افغان طالبان حکومت تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف تصدیق کے قابل ٹھوس اقدامات کرے، دفترِ خارجہ کا دوٹوک مطالبہ
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بدھ کی سہ پہر افغان ناظم الامور کو طلب کیا اور 16 فروری کو باجوڑ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے پر افغان طالبان حکومت کو شدید احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) پیش کیا۔ اس بزدلانہ حملے میں پاکستان کے 11 سپاہی شہید ہوئے تھے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے باجوڑ میں پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکی پر فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) کی جانب سے گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے اور فائرنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے منگل کو جاری ایک بیان میں بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پیر کے روز باجوڑ میں ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسی فتنۃ الخوارج نے کیا تھا۔ چوکی پر موجود چوکس دستوں کے فوری اور بھرپور جواب کے باوجود حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی۔ دھماکے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی عمارت منہدم ہوگئی، جس سے سیکیورٹی کے 11 اہلکار شہید ہوئے۔
وزارتِ خارجہ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) جس کی تمام قیادت افغانستان میں مقیم ہے، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف بلا روک ٹوک استعمال کر رہی ہے۔ دفترِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان کو بارہا یقین دہانیاں کرائی ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک اس پر کوئی ٹھوس یا واضح عمل درآمد نظر نہیں آیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ افغان طالبان حکومت کو اپنی سرزمین سے کام کرنے والے تمام دہشت گرد گروہوں اور ان کی قیادت کے خلاف فوری، ٹھوس اور تصدیق کے قابل اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ افغان حکومت کو دوٹوک بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے جوانوں، شہریوں اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فتنۃ الخوارج اور اس کے سہولت کاروں کو وہ جہاں بھی ہوں نشانہ بنانے اور ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔


Comments