جون تا جولائی 25-2024: 10.643 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط
- ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک سب سے بڑے معاون، چین 584 ملین ڈالر کے ساتھ دو طرفہ ممالک میں سرفہرست
وفاقی حکومت نے جون تا جولائی 25-2024 کے دوران کثیر جہتی اور دو طرفہ ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ 10.643 ارب ڈالر مالیت کے نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کی جانب سے بدھ کو جاری غیر ملکی اقتصادی معاونت(ایف ای اے) رپورٹ کے مطابق ان وعدوں میں کثیر جہتی شراکت داروں سے 5.061 ارب ڈالر، دو طرفہ شراکت داروں سے 1.289 ارب ڈالر اور غیر ملکی تجارتی بینکوں سے 4.294 ارب ڈالر شامل ہیں۔
غیر ملکی اقتصادی معاونت کا بنیادی مقصد ترقی پذیر معیشتوں کے مالیاتی عدم توازن کو دور کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانا اور پائیدار معاشی ترقی کے منصوبوں کی مالی معاونت کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان فنڈز کا 40 فیصد بجٹ سپورٹ اور ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے، 15 فیصد پروگرام فنانسنگ، 25 فیصد پروجیکٹ فنانسنگ اور 20 فیصد کموڈٹی فنانسنگ کے لیے مختص کیا گیا۔
جولائی تا جون 25-2024 کے دوران مجموعی طور پر 12.144 ارب ڈالر فراہم کیے گئے۔ کثیر جہتی شراکت داروں میں ایشیائی ترقیاتی بینک (2.130 ارب ڈالر)، ورلڈ بینک (1.769 ارب ڈالر) اور اسلامی ترقیاتی بینک (739 ملین ڈالر) نمایاں رہے۔ دو طرفہ ممالک میں چین 584 ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ سعودی عرب نے 221 ملین ڈالر فراہم کیے۔
30 جون 2025 تک پاکستان کا کل بیرونی عوامی قرضہ 91.795 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ حکومت نے اس عرصے میں قرضوں کی واپسی کی مد میں 13.320 ارب ڈالر ادا کیے، جس میں 9.729 ارب ڈالر اصل رقم اور 3.591 ارب ڈالر سود کی ادائیگی شامل تھی۔ خالص منتقلی کے نتیجے میں بیرونی عوامی قرضوں کے اسٹاک میں 1.713 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments