اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ برقرار، 100 انڈیکس میں 900 سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ
- 100 انڈیکس 180,000 کی سطح سے نیچے بند
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں دن کے بیشتر حصے میں منفی رجحان دیکھا گیا۔ بینچ مارک انڈیکس آغاز ہی میں دباؤ کا شکار ہو گیا اور دورانِ ٹریڈنگ 178,237.13 کی کم ترین سطح تک گر گیا۔
کاروباری سیشن کے دوسرے حصے میں انڈیکس میں کچھ بحالی دیکھی گئی، تاہم یہ مثبت زون میں نہ آ سکا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 908.91 پوائنٹس یا 0.50 فیصد کی کمی کے بعد 179,603.73 کی سطح پر بند ہوا۔
اہم شعبوں بشمول سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں (ای اینڈ پی)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور پاور جنریشن میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس کے بڑے حصص بشمول او جی ڈی سی ، ایم ای بی ایل، اے آر ایل، حبکو، پی پی ایل، پی او ایل، ماری اور یو بی ایل منفی زون میں دکھائی دیے۔
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت فرٹیلائزر کمپنیوں پر ونڈ فال منافع واپس لینے کے لیے سیس عائد کرنے پر غور کررہی ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم کو مخصوص طور پر کسانوں کے فائدے کیلئے مختص کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج فروخت کے مسلسل دباؤ کی زد میں رہی جہاں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، مختلف شعبوں میں کمزوری اور بڑے پیمانے پر مائننگ (کان کنی) کی سرمایہ کاری سے متعلق منفی تاثر نے بینچ مارک انڈیکسز میں بڑی گراوٹ پیدا کی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,537.16 پوائنٹس یا 1.39 فیصد گر کر 180,512.65 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آگئے کیونکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں منافع کی شرح میں کمی کے خدشات نے ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کو متاثر کیا، اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو مجبور کیا کہ وہ امریکہ کے اہم افراطِ زر کے ڈیٹا کے آنے سے پہلے اپنے پیسے محفوظ بانڈز میں منتقل کر لیں۔
گزشتہ رات وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی کے غلبے والا نسڈیک کمپوزٹ انڈیکس 2 فیصد گر گیا، جب سسکو سسٹمز کے سہ ماہی نتائج میں میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث منافع کی شرح توقعات سے کم رہی۔ اس خبر نے سسکو کے حصص کی قیمت 12 فیصد گرا دی اور اس کی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 40 ارب ڈالر کا صفایا کر دیا۔
فروخت کا یہ سلسلہ ایپل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک پھیل گیا جس کے حصص کی قیمت میں 5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ یہ گزشتہ سال اپریل کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ ہے ۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 194 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ اور 231 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 56 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔



Comments