پاکستان کے پاس کوئی صنعتی یا برآمدی منصوبہ موجود نہیں، سربراہ نجکاری کمیشن
- محمد علی نے معاشی بحالی کے لیے فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور نظام میں بنیادی اصلاحات پر زور دیا
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری اور نجکاری کمیشن (پی سی) کے چیئرمین محمد علی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ملکی معیشت کے بنیادی امور درست کرنے اور اسے ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے کوئی صنعتی یا برآمدی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بات 17 ویں کراچی لٹریچر فیسٹیول ( کے ایل ایف ) میں ’فکسنگ دی فنڈامینٹلز: پاکستان کا اقتصادی ری سیٹ‘ کے موضوع پر پینل ڈسکشن کے دوران کہی، اورکہا کہ اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے اور ادارے، جیسے اے پی ٹی ایم اے (آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن) اور آٹوموبائل سیکٹر، اپنے مفادات طاقتور یا بااختیار اداروں کے ذریعے حاصل کر لیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ بلند شرحِ ٹیکس کے بوجھ تلے دبا ہے۔ صارفین وہ بجلی فی یونٹ 40 روپے سے زیادہ میں ادا کر رہے ہیں جو اصل میں 10 روپے فی یونٹ کی لاگت سے پیدا کی جا رہی ہے، کیونکہ حکومت توانائی اور دیگر کئی شعبوں میں بلا ضرورت مداخلت کر رہی ہے، جو اس کا کام نہیں ہے۔“
محمد علی نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ سیاسی و معاشی ڈھانچوں میں چار سے پانچ بڑے اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وقتی مسائل کو حل کیا جا سکے، معیشت کے بنیادی ستون درست کیے جا سکیں اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا سفر شروع کیا جا سکے۔ ان میں کاروباروں میں حکومت کے کردار کو کم کرنا شامل ہے تاکہ کاروبار خود بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کرنے کے قابل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر رسمی معیشت کو دستاویزی شکل دے کر اسے رسمی معیشت میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ بدعنوانی روکی جا سکے اور ٹیکس کے نقصانات کنٹرول کیے جا سکیں، کیونکہ تمام ضروری ڈیٹا دستیاب ہے۔
ملکی سطح پر حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے مزید صوبوں اور شہروں کے قیام اور مقامی حکومتوں ( لوکل گورنمنٹس) کے نظام کو دوبارہ فعال کرنے پر زور دیا، جس کے لیے جڑ تک تمام وسائل فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی نوعیت کی فیصلہ سازی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہے، جبکہ غیر مرکزی فیصلہ سازی معیشت سمیت دیگر شعبوں میں بہتری کو سہارا دے گی۔
محمد علی نے زور دیا کہ صنعتی اور برآمدی منصوبے بنائے جائیں اور ملک کی نصف آبادی پر مشتمل خواتین کو ورک فورس میں شامل کیا جائے تاکہ معیشت کی پیداوار میں اضافہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ”ہمیں مارکیٹ پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا، جہاں طلب و رسد مصنوعات کی قیمت اور معیار متعین کرے گی۔“
نجکاری کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو دستاویزی شکل دینا ناممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں تقریباً 40 ملین بجلی صارفین، 10 ملین گیس صارفین اور 180 ملین موبائل صارفین ہیں، اور ان سب کو کمپیوٹرائزڈ نیشنل شناختی کارڈز ( سی این آئی سیز) جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ” تو معیشت کو دستاویزی شکل دینا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟ ہمارے پاس تمام ڈیٹا موجود ہے، تمام لوگ موجود ہیں۔ اگر 40 ملین بجلی کے صارفین ہیں اور فی یونٹ گھرانے کا حجم پانچ افراد ہے تو ہم 2 کروڑ افراد کا ڈیٹا حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ”ایک بار معیشت کو دستاویزی شکل دے دی جائے تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ٹیکس بیس وسیع ہو سکتا ہے اور ٹیکس کی شرحیں کم کی جا سکتی ہیں۔ دستاویزی شکل ٹیکس اور مالی بوجھ کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔“
محمد علی کے مطابق پاکستان کو تین سے پانچ صنعتوں کی نشاندہی کر کے اگلے پانچ، دس یا بیس برسوں کے لیے ان پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ صنعتی ترقی اور برآمدات کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ” اس وقت موجودہ مسائل کی سب سے بڑی وجہ حکمرانی کی اکائی کا بہت بڑا حجم ہے۔ ہمارے پاس 1 کروڑ سے 5 کروڑ افراد پر مشتمل صوبے ہیں۔ شہروں کا حجم بھی بہت بڑا ہے۔ میرا خیال ہے کہ حجم کم کیا جائے اور این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) کے تحت جانے والے فنڈز کو بھی مناسب تقسیم کیا جائے۔ صوبے نچلی سطح تک قائم ہوں اور مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل دیے جائیں۔ مرکزی سطح پر فیصلہ سازی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہے۔“
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری کے بعد حکومت توانائی کی اصلاحات اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجی شعبے میں منتقلی کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ” یہ اقدامات بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔“
دریں اثناء سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے معیشت کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے 10 نکات پیش کیے، جن میں نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی کے زیر بحث نکات بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، خصوصاً ٹی ٹی پی (تحریکِ طالبان پاکستان) کی قیادت میں، سب سے بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی غربت بھی اس میں جزوی کردار ادا کر رہی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے تمام بچوں کے لیے تعلیم یقینی بنانے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کی تجویز دی۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کو خود وسائل پیدا کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ مکمل طور پر این ایف سی پر انحصار کیا جائے، اور حکومت کے اخراجات کم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ” کچھ 20 سے 30 فیصد فنڈز ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے سرکاری اور صوبائی سطح پر بدعنوانی میں چلے جاتے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ آئین 27 ویں ترمیم کے بعد بھی اقتصادی یا معاشی نمو کو فروغ دینے کے لیے کوئی موثر ڈھانچہ فراہم نہیں کرتا۔ ” اگر آپ آئین پسند نہیں کرتے تو اسے بدلیں، یا آئین میں لکھے ہوئے اصولوں پر عمل کریں۔“
سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے سوال کیا کہ جب پاکستان وہ مصنوعات تیار نہیں کرتا جو عالمی منڈیوں میں طلب میں ہیں تو برآمدات کیسے بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اب بھی بستر کے چادروں، انڈرویئر اور موزوں جیسے پرانے مصنوعات پر انحصار کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ” دنیا بھر سے چین کی درآمد کردہ 12 بڑی مصنوعات میں سے پاکستان ایک بھی تیار نہیں کرتا۔“
سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر عشرت حسین نے زرعی شعبوں کو دوبارہ فعال کرنے پر زور دیا، جو سالانہ تقریباً 10 ارب ڈالر کی برآمدات کو راغب کر سکتے ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کو سالانہ 6 سے 7 ارب ڈالر کے سرپلس میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”چھوٹے سرمایہ کاروں پر سرمایہ کاری کریں۔ ان کے فی ایکڑ پیداوار کو بڑھانے کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے، جو بڑے کسان اور دنیا بھر کے کسان حاصل نہیں کر پاتے۔“
پاکستان بزنس کونسل ( پی بی سی ) کی چیئرمین زیلاف منیر نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی گزشتہ 30 سال میں کم رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ” ہم اپنے ہم عصر ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر ہم خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہم قدم ترقی کرتے تو ہماری فی کس آمدنی موجودہ صورتحال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہوتی۔“
پینل کے موڈیریٹر محمد اظفر احسن نے کہا کہ تعلیم تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔
انہوں نے مقررین سے اتفاق کیا کہ مقامی حکومتوں کا نظام بحال کیا جائے اور کاروباروں میں حکومت کے کردار کو کم کیا جائے۔


Comments