اسلام آباد خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تدفین، ہزاروں افراد کی شرکت
- جمعے کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں واقع خدیجۃ الکبریٰ امام بارگاہ کے احاطے میں ایک حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا
اسلام آباد میں جمعے کی نماز کے دوران شیعہ برادری کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والے 31 افراد کی تدفین کا سلسلہ ہفتے کے روز شروع ہوا، جس میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔ واقعے کے بعد ممکنہ مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
جمعے کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں واقع خدیجۃ الکبریٰ امام بارگاہ کے احاطے میں ایک حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس حملے میں حملہ آور سمیت 31 افراد جاں بحق اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔ شدت پسند تنظیم داعش نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ اسلام آباد میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ سخت حفاظتی انتظامات کے باعث اسلام آباد میں بم دھماکے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، تاہم تین ماہ کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ حالیہ عرصے میں شدت پسندی میں اضافے کے باعث ملک کے بڑے شہروں میں تشدد کی واپسی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
شہر بھر میں اہم مقامات کی جانب جانے والی سڑکوں پر پولیس ناکے قائم کیے گئے جبکہ پولیس اور ایلیٹ کمانڈوز نے امام بارگاہ کے قریب جنازوں کے دوران سخت پہرہ دیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد کی سکیورٹی مزید بہتر بنا دی ہے اور اسے فول پروف بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے سہولت کاروں کا سراغ لگانے میں پیش رفت ہوئی ہے۔
اجتماعی جنازے میں شریک افراد نے سینہ کوبی کی اور بعد ازاں 20 تابوت تدفین کے لیے اٹھائے گئے۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ حملے میں اپنے 21 سالہ بھانجے کو کھونے والے عاشق حسین نے کہا کہ ان کا خاندان ٹوٹ کر رہ گیا ہے۔
اسلام آباد کے اسپتالوں میں زیر علاج زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے، تاہم طبی حکام کے مطابق اسپتال کے پاس علاج کی مکمل سہولیات موجود ہیں۔ ادھر پشاور اور نوشہرہ میں سکیورٹی اداروں نے چھاپے مار کر چار افراد کو گرفتار کیا، جبکہ کارروائی کے دوران ایک اہلکار جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق مزید چھاپے جاری ہیں۔


Comments