BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.4%)
KSE100 Increased By (0.14%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 55.65 Decreased By ▼ -0.12 (-0.22%)
BIPL 24.41 Increased By ▲ 0.08 (0.33%)
BOP 28.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.85 Increased By ▲ 0.05 (0.39%)
DFML 15.91 Decreased By ▼ -0.17 (-1.06%)
DGKC 182.00 Decreased By ▼ -0.40 (-0.22%)
FABL 91.49 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
FCCL 51.77 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 14.03 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.70 Decreased By ▼ -0.40 (-1.99%)
HBL 290.42 Increased By ▲ 0.98 (0.34%)
HUBC 193.43 Increased By ▲ 0.19 (0.1%)
HUMNL 9.29 Increased By ▲ 0.08 (0.87%)
KEL 6.09 Increased By ▲ 0.18 (3.05%)
LOTCHEM 25.41 Decreased By ▼ -0.41 (-1.59%)
MLCF 89.95 Decreased By ▼ -0.50 (-0.55%)
OGDC 299.10 Decreased By ▼ -3.15 (-1.04%)
PAEL 33.77 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
PIBTL 13.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 231.93 Increased By ▲ 0.85 (0.37%)
PPL 218.87 Decreased By ▼ -0.38 (-0.17%)
PRL 106.95 Increased By ▲ 3.19 (3.07%)
SNGP 90.23 Increased By ▲ 0.10 (0.11%)
SSGC 22.91 Decreased By ▼ -0.11 (-0.48%)
TELE 7.11 Decreased By ▼ -0.12 (-1.66%)
TPLP 11.78 Decreased By ▼ -0.09 (-0.76%)
TRG 56.37 Increased By ▲ 0.90 (1.62%)
UNITY 7.93 Decreased By ▼ -0.11 (-1.37%)
WTL 0.96 Decreased By ▼ -0.02 (-2.04%)
دنیا

ٹرمپ، نیتن یاہو اور یورپی رہنماؤں نے مظاہروں کو ہوا دی، ایرانی صدر

  • کریک ڈاؤن میں کم از کم 6,563 افراد مارے گئے، ہرانا
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور یورپی رہنماؤں نے ایران کے معاشی مسائل کا فائدہ اٹھایا، بدامنی کو ہوا دی اور حالیہ مظاہروں کے دوران لوگوں کو وہ ذرائع فراہم کیے جن کا مقصد قوم کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا تھا۔

دو ہفتوں سے جاری ملک گیر احتجاج جو دسمبر کے آخر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران پر شروع ہوئے تھے اب تھم گئے ہیں۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں کم از کم 6,563 افراد مارے گئے جن میں 6,170 مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے 214 اہلکار شامل ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سی این این ترک کو بتایا کہ اس دوران 3,100 افراد مارے گئے جن میں 2 ہزار سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور یورپی رہنماؤں نے اکسانے اور تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی اور وسائل فراہم کیے جس سے کچھ معصوم لوگ اس تحریک کا حصہ بن گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو قتل کرنا جاری رکھا تو امریکہ کارروائی کیلئے تیار ہے۔ امریکی حکام نے جمعہ کو بتایا کہ ٹرمپ اپنے آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اسرائیل کی ویب سائٹ وائی نیٹ نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک تباہ کن بحری جہاز اسرائیل کی ایلات بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگیا ہے۔

پزشکیان نے کہا کہ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور یورپی رہنماؤں نے ہمارے مسائل کا فائدہ اٹھایا، اشتعال انگیزی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ معاشرے کو بکھیرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ان مظاہرین کو سڑکوں پر لائے، یہ تمام حکمران ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا، عوام کے درمیان تصادم اور نفرت کے بیج بونا اور تفریق پیدا کرنا چاہتے تھے۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک سماجی احتجاج نہیں تھا۔

ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت علاقائی اتحادی واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی تصادم کو روکنے کیلئے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

امریکہ مطالبہ کررہا ہے کہ اگر دونوں ممالک مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنا چاہتے ہیں تو ایران کو اپنے میزائل پروگرام پر پابندی لگانی ہوگی لیکن ایران نے اس مطالبے کو مسترد کردیا ۔

وزیرِ خارجہ عراقچی نے منگل کو ترکیہ میں کہا تھا کہ میزائل کبھی بھی کسی مذاکرات کا موضوع نہیں بنیں گے۔

فوجی کارروائی کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں عراقچی نے کہا کہ تہران مذاکرات یا جنگ دونوں کے لیے تیار ہے اور استحکام و امن کے فروغ کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے کے لیے بھی تیار ہے۔

عراقچی نے سی این این ترک کو بتایا کہ حکومت کی تبدیلی ایک مکمل خام خیالی ہے۔ کچھ لوگ اس وہم کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمارا نظام اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ افراد کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Comments

Comments are closed.