ایس اینڈ پی اور اسٹیٹ بینک کے معاشی تخمینے بڑی حد تک ہم آہنگ، خرم شہزاد
- مالی سال 2026 کے لیے ایس اینڈ پی کا 0.5 فیصد خسارے کا تخمینہ اسٹیٹ بینک کی 0 سے 1 فیصد کی حد کے عین مطابق ہے ، مشیر خزانہ
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس (ایس اینڈ پی) کی حالیہ میکرو اکنامک پیش گوئیاں وسیع پیمانے پر اسٹیٹ بینک کے تخمینوں کے مطابق ہیں۔
ایک بیان میں خرم شہزاد نے بتایا کہ ایس اینڈ پی نے 2026 میں مہنگائی کی شرح 5.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو 2027 میں معمولی اضافے کے ساتھ 5.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو سال کے لیے 5 فیصد سے 7 فیصد کی حد کا تخمینہ لگایا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ ایس اینڈ پی کی پیش گوئی کردہ شرح یعنی 5.1 سے 5.6 فیصد، اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کی حد کے اندر ہی آتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ 2026 سے 2027 تک مہنگائی کی شرح مستحکم یا اس میں معمولی اضافہ رہے گا۔
بیرونی محاذ پر ایس اینڈ پی نے سال 2026 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے 0.5 فیصد پر لگایا ہے جس کے 2027 میں بڑھ کر 1.3 فیصد ہونے کی توقع ہے۔
دریں اثنا اسٹیٹ بینک کا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ خرم شہزاد نے تبصرہ کیا کہ مالی سال 2026 کے لیے ایس اینڈ پی کا 0.5 فیصد خسارے کا تخمینہ اسٹیٹ بینک کی 0 سے 1 فیصد کی حد کے عین مطابق ہے۔ تاہم ایس اینڈ پی کی آئندہ سال کی پیش گوئی یعنی 1.3 فیصد اسٹیٹ بینک کی مالی سال 2026 کی حد سے تھوڑی زیادہ ہے۔
مزید برآں ایس اینڈ پی توقع ظاہر کرتا ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ 3.5 فیصد رہے گی جو مالی سال 2027 میں مزید بہتر ہو کر 4.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اس کے مقابلے میں اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2026 کے لیے 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد شرحِ نمو کا تخمینہ لگایا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ ایس اینڈ پی توقع کرتا ہے کہ مالی سال 2027 میں شرحِ نمو بڑھ کر 4.4 فیصد ہو جائے گی جو کہ اسٹیٹ بینک کی مالی سال 2026 کے لیے مقرر کردہ حد کے اندر ہی ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ مجموعی طور پر ایس اینڈ پی کی پیش گوئیاں وسیع پیمانے پر اسٹیٹ بینک کے نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہیں، اگرچہ شرحِ نمو اور کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے معمولی فرق موجود ہے لیکن مہنگائی میں کمی اور بتدریج معاشی بہتری پر دونوں کا اندازہ ایک جیسا ہے۔
پیر کو گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے معیشت کے حوالے سے ایک پرامید منظرنامہ پیش کیا، جس میں مالی سال 2026 کے لیے جی ڈی پی گروتھ کے تخمینے کو بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ دسمبر 2026 کے آخر تک اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر 20.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی میں سالانہ بنیادوں پر 3.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے (مالی سال 2025) میں یہ شرح 1.6 فیصد تھی۔ یہ معاشی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی کی نشاندہی کرتا ہے جس کی بنیادی وجہ صنعت اور زراعت کے شعبے ہیں۔


Comments