عالمی قانون کا مذاق اڑانا بند کیا جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں بھارت کے خلاف شدید احتجاج
- پڑوسی ملک سندھ طاس معاہدہ توڑ کر آبی دہشت گردی کر رہا ہے، سلامتی کونسل میں سفیرعاصم افتخارکا دو ٹوک موقف
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل(یواین ایس سی) کو بتایا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی تیزی سے تنازعات کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں پاکستان پر بھارت کے بغیر اشتعال انگیز حملے، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار اور نئی دہلی کی جانب سے دونوں پڑوسیوں کے درمیان 1960 کے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی یکطرفہ معطلی کی جانب توجہ مبذول کرائی۔
مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے قانون کی حکمرانی پر ہونے والے مباحثے میں سلامتی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ مئی میں پاکستان پر بھارت کا بلا اشتعال حملہ، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے انکار اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ چارٹر(آئینِ اقوامِ متحدہ) سے ہٹ کر یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو نقصان پہنچاتی اور کثیر جہتی اداروں کے اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔
سفیر عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ جب قانون طاقت کے آگے جھک جائے تو عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی فوجی جارحیت کے جواب میں پاکستان کا دفاعی ردعمل متناسب اور ذمہ دارانہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ جبر کی بنیاد پر کوئی نیا معمول قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی جڑ جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس کی معطلی آبی دہشت گردی ہے، جو لاکھوں زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
بھارتی مندوب کی جانب سے پاکستان پر الزامات اور کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے پر پاکستانی وفد کے فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کرارا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا نہ رہے گا، یہ ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کا فیصلہ رائے شماری سے ہونا باقی ہے۔ ذوالفقار علی نے بھارت کو جھوٹ کا بیوپاری اور علاقائی دہشت گردی کا منصوبہ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے وعدوں سے مکر کر ہٹ دھرمی دکھا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور پانیوں کا دفاع اسی جذبے سے کرے گا جیسا گزشتہ برس مئی میں کیا تھا۔
مباحثے کے آغاز میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تشویش ظاہر کی کہ دنیا میں قانون کی جگہ جنگل کا قانون لے رہا ہے اور ریاستیں عالمی قوانین کو اپنی مرضی کے مطابق (آلا کارٹ) استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے طاقت کے غیر قانونی استعمال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لیے سلامتی کونسل کی تاثیر بڑھانے پر زور دیا۔

Comments