منی پولس میں امیگریشن اہلکاروں نے ایک اور امریکی شہری کو ہلاک کر دیا، احتجاج بھڑک اٹھا
- بارڈر پٹرول کا ایک اہلکار اپنے دفاع میں فائرنگ پر مجبور ہوا،امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی
امریکی امیگریشن حکام نے منی پولس میں ہفتے کے روز ایک امریکی شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے بعد شہر میں شدید احتجاج اور مقامی رہنماؤں کی شدید مذمت سامنے آئی۔ یہ ماہ کے دوران دوسرا ایسا واقعہ ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق، بارڈر پٹرول کا ایک اہلکار اپنے دفاع میں فائرنگ پر مجبور ہوا جب مرد نے اپنی بندوق قبضے میں لینے کی کوشش کی مزاحمت کی۔ تاہم، مقامی رہنماؤں نے اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ شہر میں بھیجے گئے 3,000 امیگریشن اہلکاروں کو فوری طور پر واپس بلا لیں۔
گورنر ٹم والز نے کہا کہ میں نے ویڈیو کئی زاویوں سے دیکھی ہے اور یہ دل دہلا دینے والی ہے۔ ریاستی حکام خود تحقیقات کریں گے کیونکہ وفاقی حکومت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے کی شناخت 37 سالہ ایلکس پریٹی کے طور پر ہوئی، جو منی پولس میں رہائش پذیر اور بطور نرس کام کرتے تھے۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ اہلکار اور پریٹی کے درمیان جھگڑا ہوا اور پھر فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے مطابق پریٹی قانونی طور پر ہتھیار رکھنے والے شہری تھے اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
واقعے کے بعد سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور مسلح اہلکاروں کے سامنے احتجاج کیا، جنہوں نے آنسو گیس اور فلیش بینگ کا استعمال کیا۔ منی پولس کے میئر جیکب فری اور دیگر مقامی حکام نے اپیل کی کہ امیگریشن کارروائیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
اس واقعے کے ایک روز قبل بھی 10,000 سے زائد افراد نے سڑکوں پر نکل کر امیگریشن کارروائی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ شہریوں میں غصہ کئی واقعات، بشمول امریکی شہری رینی گوڈ کی ہلاکت اور اسکول کے بچوں کی گرفتاریوں کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔


Comments