BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.39%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.98 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
FCCL 53.39 Increased By ▲ 0.56 (1.06%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.62 Increased By ▲ 0.65 (3.43%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.20 Increased By ▲ 0.82 (0.38%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.57 Decreased By ▼ -0.32 (-1.15%)
MLCF 87.15 Increased By ▲ 0.64 (0.74%)
OGDC 322.98 Increased By ▲ 3.02 (0.94%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.37 Increased By ▲ 0.70 (4.2%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.10 Increased By ▲ 0.92 (0.4%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.96 Increased By ▲ 0.36 (1.35%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.30 (3.62%)
TPLP 8.60 Increased By ▲ 0.38 (4.62%)
TRG 69.75 Increased By ▲ 0.04 (0.06%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

حکومت نے متبادل تنازعات حل ایکٹ میں ترمیم لانے کی تیاری کرلی

  • مخصوص نوعیت کے مقدمات کو لازمی طور پر عدالتوں کی بجائے میڈی ایشن، مصالحت اور ثالثی کے ذریعے نمٹایا جائے گا
شائع January 15, 2026 اپ ڈیٹ January 15, 2026 09:02am

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے متبادل تنازعات حل(اے ڈی آر)ایکٹ میں اہم ترامیم پر پیش رفت کی ہے جن کے تحت مخصوص نوعیت کے مقدمات کو لازمی طور پر عدالتوں کی بجائے میڈی ایشن، مصالحت اور ثالثی کے ذریعے نمٹایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزارت قانون و انصاف کی تیار کردہ مسودہ ترامیم کو کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے معاملات نے منظوری دے دی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کی۔

وزارت قانون نے کمیٹی کو بتایا کہ متبادل تنازعات حل کا قانون 2017 اس مقصد کے لیے نافذ کیا گیا تھا کہ شہریوں کو کم لاگت اور فوری انصاف فراہم ہو سکے۔ موجودہ نظام عدالتوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مقدمات کو مصالحت یا ثالثی کے لیے بھیجیں، تاہم یہ اختیار لازمی نہیں تھا جس کے باعث روایتی مقدمہ بازی کا بوجھ کم نہ ہو سکا اور اے ڈی آر کا استعمال محدود رہا۔

قانون و انصاف ڈویژن نے مزید بتایا کہ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کرتے ہیں، نے اس خامی کی نشاندہی اپنے 54ویں اجلاس میں کی تھی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ مقدمات کا آغاز ہونے سے پہلے لازمی ثالثی کا اہتمام قانونی طور پر لازم کیا جائے۔ 55ویں اجلاس میں وزارت قانون کی جانب سے تیار کردہ ترمیمی مسودہ پیش کیا گیا جسے سراہا گیا اور صوبائی محکموں سے مشاورت کی ہدایت دی گئی۔

ان فیصلوں کی روشنی میں مجوزہ ترمیم کا مقصد عدالتوں کا بوجھ کم کرنا، تنازعات کے فوری اور کم خرچ حل کو فروغ دینا اور مصالحتی نظام کو عام کرنا ہے۔ مجوزہ مسودہ اب کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان میں نجی بیرونی تجارت سے جڑے تنازعات گزشتہ کئی دہائیوں سے عام عدالتوں میں نمٹائے جاتے رہے ہیں جو عالمی معیار کے برعکس تصور کیے جاتے ہیں۔ تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن آرگنائزیشن اور کمیشن پہلے ہی قائم ہیں اور نئے قواعد وزارت قانون کے زیر جائزہ ہیں۔ 2022 کے ایکٹ کے تحت کمیشن کو مکمل دائرہ اختیار حاصل ہے اور درآمد و برآمد سے متعلق تنازعات اب انہی کے ذریعے نمٹائے جائیں گے۔ اس پیش رفت سے چھوٹے اور درمیانے برآمد کنندگان کو خاص فائدہ ہو گا جو پہلی مرتبہ پاکستان میں ہی اپنے غیر ملکی کاروباری شراکت داروں کے خلاف دعویٰ دائر کر سکیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف