وینزویلا اور ایران سے سپلائی خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ خام تیل کی قیمت 44 سینٹ اضافے کے ساتھ 62.43 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی
عالمی تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز مسلسل دوسرے دن اضافہ دیکھنے میں آیا، اور یہ اضافہ متوقع طور پر ہفتے کی مجموعی بنیاد پر بھی جاری رہے گا، کیونکہ وینزویلا سے مستقبل میں تیل کی سپلائی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور ایران میں احتجاجی لہروں نے پیداوار میں ممکنہ کمی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
جمعہ کی ابتدائی تجارت میں برینٹ خام تیل کی قیمت 44 سینٹ اضافے کے ساتھ 62.43 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو کہ 0.71 فیصد کا اضافہ ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 39 سینٹ بڑھ کر 58.15 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جس میں 0.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دونوں عالمی بینچ مارک قیمتیں جمعرات کو بھی 3 فیصد سے زائد بڑھ گئی تھیں، جس سے ایک دو روزہ کمی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ برینٹ قیمتوں میں رواں ہفتے مجموعی طور پر 2.7 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 1.4 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور یہ اعلان کہ امریکہ وینزویلا کے تیل کے شعبے پر کنٹرول حاصل کرے گا، عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے غیر یقینی خدشات میں اضافہ کا سبب بنا۔ ایران میں معاشی صورتحال کے خلاف مظاہروں، ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور وہاں کی سیاسی بے چینی نے بھی تیل کی پیداوار کے متاثر ہونے کا خطرہ اجاگر کیا ہے، جس سے مارکیٹوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
علاوہ ازیں روس یوکرین جنگ کے ممکنہ دائرہ وسیع ہونے کے اندیشے نے مارکیٹ کے اندازوں کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اگرچہ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تیل کی عالمی پیداوار اور ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اگر ایران کی صورتحال مزید سنگین نہ ہوئی تو قیمتوں میں موجودہ اضافہ زیادہ دیر برقرار رہنے کی توقع نہیں۔
ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاست اور عالمی سطح پر توانائی کے بہاؤ میں رکاوٹیں ہی اس وقت قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہیں اور مارکیٹ آنے والے دنوں میں انہی عوامل پر قریب سے نظر رکھے گی۔


Comments
Comments are closed.