BR100 Increased By (0.05%)
BR30 Decreased By (-0.02%)
KSE100 No Change (0%)
KSE30 No Change (0%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
اداریہ

تنخواہ دار طبقہ: ٹیکسز کا بوجھ اور ہمت توڑتی آزمائش

  • رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے ٹیکس ادا کیا
شائع January 8, 2026 اپ ڈیٹ January 8, 2026 02:25pm

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جو کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس سے دوگنا ہے۔ یہ تنخواہ دار طبقے کا ایک دیرینہ اور جائز شکوہ رہا ہے جن کا موقف ہے کہ وہ ملک کے امیر ترین گروہ کی نمائندگی نہیں کرتے (پھر بھی ان پر ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے)۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ حقیقت ہے کہ سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والے افراد کو تو معمول کے مطابق سالانہ بنیادوں پر تنخواہوں میں اضافے کا فائدہ ملتا رہا ہے، جو کئی مواقع پر مہنگائی کی شرح سے بھی زیادہ رہا، لیکن نجی شعبے سے وابستہ تنخواہ دار طبقے کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجوہات کووڈ کے بعد کی کم شرحِ نمو اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری پروگرام کی کڑی شرائط کے نتیجے میں اپنائی گئی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں ہیں۔

اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ ملک میں کل برسرِ روزگار افراد کا صرف 7 فیصد حصہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں حاصل کرتا ہے، بقیہ 93 فیصد افراد کے معیارِ زندگی میں مسلسل گراوٹ دیکھی گئی ہے، اس تلخ حقیقت کی عکاسی آج غربت کی شرح میں 42 فیصد سے زائد کے اضافے سے ہوتی ہے۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے تنخواہوں سے جمع کیے گئے ٹیکس کے مقابلے میں نصف ٹیکس ادا کیا اور اس تناظر میں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ شہری جائیداد کے ٹیکس صوبائی حکومتوں کو ادا کیے جاتے ہیں جبکہ آئین کے مطابق زرعی انکم ٹیکس بھی صوبوں کا دائرہ اختیار ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو جائیداد کی خرید و فروخت پر صرف ودہولڈنگ ٹیکس اور کیپیٹل گینز ٹیکس جمع کرتا ہے۔

علاوہ ازیں ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ رئیل اسٹیٹ طویل عرصے سے کالا دھن چھپانے کے لیے پسندیدہ ترین شعبہ رہا ہے جو کہ دستاویزی معیشت کے کم از کم 50 فیصد کے برابر ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق کی جانے والی حالیہ اصلاحات کے بعد جائیداد کی خریدوفروخت کے عمل میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے۔

دوسرے لفظوں میں (ٹیکس کی) کم وصولی کی وجہ جزوی طور پر صوبائی ٹیکس اقدامات اور جزوی طور پر رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں جاری مندی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

حالات کچھ بھی ہوں رپورٹیں بتاتی ہیں کہ 2025 میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے منظر نامے میں ترجیحات تبدیل ہوئیں اور سرمایہ کاروں کا جھکاؤ سونے اور اسٹاک مارکیٹ کی طرف زیادہ رہا۔

سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اب ایک عالمی رجحان بن چکی ہے جس کا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ امریکہ کی زیرِ قیادت بہت سے ممالک پر عائد مغربی پابندیوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین کے ساتھ اہم یورپی اتحادیوں سے ہونے والی درآمدات پر بھاری ٹیرف (محصولات) نے امریکی ڈالر کی طلب کو کم کردیا ہے۔ اس صورتحال میں چین اور بھارت سمیت کئی ممالک اب ڈالر کے بجائے سونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، اگرچہ روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ مستحکم رہی ہے لیکن یہ استحکام نہ تو عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کے گھٹتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کے باوجود، زرمبادلہ ذخائر اب بھی زیادہ تر کثیر الجہتی اداروں اور تین دوست ممالک سے حاصل کردہ قرضوں پر منحصر ہیں، نہ کہ آمدنی کے سب سے مطلوبہ ذریعے یعنی تجارتی سرپلس پر۔

موجودہ وزیرِ خزانہ سمیت کئی وزرائے خزانہ نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی شاندار کارکردگی کو معیشت کی مضبوطی کی علامت قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ یہ (تیزی) اس حقیقت کی عکاسی کر سکتی ہے کہ خطے میں اسٹاک مارکیٹ پر سب سے کم ٹیکس پاکستان میں لاگو ہیں۔

اس (بحث) سے قطع نظر یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ کے پلیرز (سرمایہ کاروں) کی تعداد انتہائی کم ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں کمزور سماجی پس منظر رکھنے والے گھرانوں یا کم آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھنے والا کوئی سرمایہ کار موجود نہیں، جبکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

عملی طور پر اس شعبے (اسٹاک مارکیٹ) کی مضبوطی یا کمزوری کسی طور پر بھی ’شمولیتی ترقی کے ماڈل کی عکاسی نہیں کرتی جس کا ثبوت بڑھتی ہوئی غربت کی شرح کی صورت میں پہلے ہی موجود ہے۔

شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے تسلسل کے باعث، سونے اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے واضح رجحان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اعلیٰ پیداواری صلاحیت سے متعلق سرمایہ کاری کے لیے کوئی مثبت ماحول پیدا کر سکے گا۔

حکومت کو اس کے بجائے آئی ایم ایف کے ساتھ اس بات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ سکڑاؤ والی پالیسیوں میں اس حد تک نرمی لائی جائے جہاں سرمایہ کاری کو نئی زندگی مل سکے اور اسے فعال کیا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف