ڈیجیٹل لینڈنگ کی جانب بڑا قدم: سیکیور لاجسٹک نے فن ٹیک سافٹ ویئر کی آئی پی حاصل کرلی
- اقدام سے 500 ملین روپے تک کی ڈیجیٹل قرضہ جات کی سہولتوں کی فراہمی کی راہ ہموار ہوگئی
پاکستانی لاجسٹکس کمپنی سیکیور لاجسٹکس – ٹریکس گروپ لمیٹڈ نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے فینووا ٹیکنالوجیز سے فن ٹیک سافٹ ویئر پلیٹ فارم کی انٹیلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) حاصل کرنے کے لیے معاہدہ کر لیا ہے، جس کے ذریعے کمپنی کو 500 ملین روپے تک کے ڈیجیٹل قرضہ جات کی سہولت فراہم کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔
ایس ایل جی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے نوٹس میں بتایا کہ یہ پیشرفت اس وقت ممکن ہوئی جب کمپنی نے اپنی ذیلی کمپنی لاجی سروس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) لائسنس میں فن ٹیک کیٹیگری شامل کی، جو این بی ایف سی لائسنس کے اجرا کے بعد کیا گیا۔
کمپنی نے بتایا کہ اس اقدام کے نتیجے میں ایک بائنڈنگ ہیڈ آف ٹرمز پر عمل درآمد ہوا ہے اور، ایس ایل جی ایل ڈیجیٹل قرضہ جات کی خطیر سہولتوں کی فراہمی کے لیے متعدد مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ فروری 2025 میں شروع کیے گئے ایک پائلٹ پروجیکٹ کے حصے کے طور پر کمپنی پہلے ہی اپنے ای کامرس مرچنٹس (تاجروں) کو75 ملین روپے کے قرضے جاری کرچکی ہے جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 4.5 بلین روپے کا لین دین مکمل ہو چکا ہے۔
کمپنی نے مزید کہا کہ فن ٹیک سافٹ ویئر آئی پی کا حصول اور 500 ملین روپے تک کے ڈیجیٹل قرضہ جات کی سہولیات کا انتظام فروری 2026 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ اقدام ایس ایل جی ٹریکس کے ای کامرس بزنس کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا اور لاجسٹکس، ای کامرس، ویئر ہاؤسنگ، آئی او ٹی اور سیکیورٹی سروسز کے علاوہ ڈیجیٹل قرضوں کی سہولت کے ذریعے چھٹا آمدنی کا ذریعہ بھی متعارف کرائے گا۔
کمپنی نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ سروسز کا تعارف اوراین بی ایف سی آپریشنز کے ذریعے ایس ایل جی ٹریکس کے ای کامرس مرچنٹس میں اضافی سرمایہ کی تعیناتی سے مالی سال 2026 کے لیے کمپنی کے مالی نتائج پر اہم مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
اس سے قبل، ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان مالیاتی شمولیت کو وسعت دینے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے فن ٹیک کا سہارا لے سکتا ہے، لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب ریگولیٹری اور استعداد کے چیلنجز کے ساتھ ساتھ مالیاتی رکاوٹوں بالخصوص ٹیکس کی پیچیدگی اور تعمیل کے اخراجات کو دور کیا جائے۔
اے ڈی بی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان فن ٹیک کے اہم اشاریوں میں خطے کے کئی دیگر ممالک سے پیچھے ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اندرونی صلاحیتوں کی کمی مستقبل میں بھی اس شعبے کی ترقی کو محدود رکھ سکتی ہے۔


Comments