پاکستان اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک میں پاور انفرا اسٹرکچر، ایس او ای تبدیلی کیلئے 730 ملین ڈالر کے معاہدے
- معاہدوں میں دوسرا پاور ٹرانسمیشن منصوبہ اور سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے تبدیلی پروگرام شامل ہیں ، مالیت 330 ملین اور 400 ملین ڈالرہے
حکومت اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے دو قرض معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کی کل مالیت 730 ملین ڈالر ہے۔اے ڈی بی نے ایک بیان میں بتایا کہ معاہدوں کا مقصد ملک کی سرکاری ملکیتی کمپنیوں (ایس او ایز) کی تبدیلی کو فروغ دینا اور پاور ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو سستی اور صاف توانائی کے حصول کے قابل بنانا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق انہوں نے اے ڈی بی کے ساتھ دو اہم اقدامات پر دستخط کیے:
i) دوسرا پاور ٹرانسمیشن مضبوطی منصوبہ جس کی مالیت 330 ملین ڈالر ہے اور
ii) سرکاری ملکیتی کمپنیوں (ایس او ایز) کی تبدیلی کے پروگرام کی مالیت 400 ملین ڈالر ہے۔
اے ڈی بی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ دستخط شدہ معاہدے اے ڈی بی کی پاکستان میں پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے دیرینہ وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سیکرٹری وزارتِ اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے انفرااسٹرکچر اور گورننس اصلاحات کو فروغ دینے میں اے ڈی بی کی حمایت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسمیشن پروجیکٹ آنے والے ہائیڈرو پاور منصوبوں سے 2,300 میگاواٹ (ایم ڈبلیو) بجلی کی منتقلی ممکن بنائے گا، موجودہ ٹرانسمیشن لائنوں پر بوجھ کم اور ہنگامی حالات میں مضبوطی فراہم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس او ای تبدیلی پروگرام ایس او ای ایکٹ 2023 اور ایس او ای پالیسی 2023 کے تحت تعمیل کو مضبوط اور آپریشنل کارکردگی بہتر کرے گا، خاص طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔
سیکرٹری حمیر کریم نے زور دیا کہ دونوں اقدامات نوعیت میں تبدیلی لانے والے ہیں کیونکہ ٹرانسمیشن پروجیکٹ قومی گرڈ کی بنیاد کو مضبوط کر کے پاکستان کے توانائی مستقبل کو محفوظ بنائے گا جبکہ ایس او ای پروگرام سرکاری ملکیتی کمپنیوں کی شفافیت، کارکردگی اور پائیداری کو ملک بھر میں فروغ دے گا۔
ادھر اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فان نے ٹرانسمیشن پروجیکٹ کی اہمیت پر زور دیا، جس سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے گا۔
وزارتِ اقتصادی امور کے بیان کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس او ای تبدیلی پروگرام پاکستان میں ایک اہم مرحلے پر آ رہا ہے اور یہ حکومت پاکستان کی اصلاحی کوششوں کو مزید مضبوط کرے گا۔
دونوں فریقین نے مالی معاونت کو مؤثر طریقے سے استعمال کر کے دونوں منصوبوں کی کامیاب اور بروقت تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا۔


Comments
Comments are closed.