سندھ طاس معاہدہ اب بھی مؤثر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا بھارتی خلاف ورزیوں پر عالمی کارروائی کا مطالبہ
- بھارت کی جانب سے پانی میں ہیرا پھیری ہمارے شہریوں کی جانوں اور روزگار کے لیے خطرہ ہے، وزیر خارجہ کا مؤقف
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی خلاف ورزی میں بھارت کو حاصل مبینہ استثنیٰ کو عالمی برادری کو قبول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ معاہدہ اب بھی مؤثر ہے اور اس کی تمام شقیں دونوں فریقین پر قانونی طور پر لازم ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں سفارتی کور سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر اس امر پر زور دینا چاہتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند قانونی دستاویز ہے جس نے جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے فروغ میں گراں قدر کردار ادا کیا ہے۔
ان کے مطابق معاہدے کی خلاف ورزی ایک جانب بین الاقوامی معاہدات کے تقدس کے لیے خطرہ ہے اور دوسری طرف علاقائی امن و سلامتی، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستوں کے مابین تعلقات کو منظم کرنے والے ضوابط کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ مستقل ثالثی عدالت نے جون اور اگست 2025 کے اپنے حالیہ فیصلوں میں سندھ طاس معاہدے کی مسلسل قانونی حیثیت اور اس کے تنازعات کے حل کے پابند طریقۂ کار کی توثیق کی ہے۔
ان کے بقول ان فیصلوں کے بعد کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہتا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے متعدد خصوصی طریقۂ کار اور مینڈیٹ ہولڈرز کی جانب سے بھارت کو بھیجی گئی اس خط و کتابت کا بھی نوٹس لیا ہے، جس میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی غیرقانونی اقدامات پر سنگین قانونی، انسانی حقوق اور انسانی بنیادوں پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس اپریل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قانون بالخصوص ویانا کنونشن برائے قانونِ معاہدات کے آرٹیکل 26 کی کھلی خلاف ورزی تھی، تاہم اب جو کچھ سامنے آ رہا ہے وہ بھارت کی جانب سے ایسی خلاف ورزیاں ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی بنیادوں کو ہلا رہی ہیں اور اس کے علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کے تقدس پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق رواں سال دو مرتبہ دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، پہلی مرتبہ 30 اپریل سے 21 مئی کے دوران اور دوسری بار 7 دسمبر سے 15 دسمبر کے درمیان۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ تبدیلیاں پاکستان کے لیے نہایت تشویش کا باعث ہیں کیونکہ یہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے یہ پانی بغیر کسی پیشگی اطلاع، ڈیٹا یا معلومات کی فراہمی کے چھوڑا، جو معاہدے کے تحت لازمی ہے۔
ان کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی میں اس ہیرا پھیری پر پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے، جیسا کہ سندھ طاس معاہدے میں درج ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا حالیہ اقدام پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی واضح مثال ہے،جس کی طرف پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ دلاتا رہا ہے۔
ان کے مطابق زرعی سائیکل کے ایک نہایت اہم مرحلے پر بھارت کی جانب سے پانی میں ردوبدل ہمارے شہریوں کی جانوں اور روزگار کے ساتھ ساتھ خوراک اور معاشی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ بھارت انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے گا، دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ چھیڑ چھاڑ سے باز رہے گا اور سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر حرف بہ حرف اور روح کے مطابق عمل کرے گا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ معاہدے کی حالیہ خلاف ورزی کوئی واحد مثال نہیں بلکہ بھارت مسلسل اور منظم انداز میں معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشن گنگا اور رتلے جیسے پن بجلی منصوبوں میں ایسے ڈیزائن شامل ہیں جو معاہدے کی تکنیکی شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جبکہ بھارت معاہدے کی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے غیرقانونی ڈیم بھی تعمیر کر رہا ہے ،تاکہ ایک ناقابلِ تردید صورتِ حال پیدا کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان ڈیموں کی تعمیر سے بھارت کی پانی ذخیرہ کرنے اور اس میں ردوبدل کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو پاکستان کی سلامتی، معیشت اور 24 کروڑ عوام کے روزگار کے لیے خطرہ ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق بھارت نے معاہدے کے تحت درکار پیشگی معلومات، آبی اعداد و شمار اور مشترکہ نگرانی کا عمل بھی روک دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو سیلاب اور خشک سالی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا یہ غیرقانونی اور غیرذمہ دارانہ طرزعمل پاکستان میں انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جاری پانی میں ہیرا پھیری بین الاقوامی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور غربت و بھوک کے خاتمے سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو معاہدے کی خلاف ورزی کی کھلی چھوٹ دی گئی تو یہ ایک نہایت خطرناک مثال قائم کرے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تشویشناک امر یہ ہے کہ بھارت اب خود معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کو بھی سبوتاژ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مستقل ثالثی عدالت اور نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی میں شرکت سے انکار کر کے بھارت جان بوجھ کر سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم شدہ ثالثی نظام کو ناکام بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

Comments
Comments are closed.