قومی جواہرات پالیسی ، وزارت کا نئی قانونی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ
- نئی قومی جواہرات پالیسی کے تحت برآمدات بڑھانے اور ویلیو ایڈیشن اور شعبے کی دستاویز بندی پر زور
وزارتِ صنعت و پیداوار نے نئی قومی جواہرات پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل پالیسی کے نگہبان، کاروباری سہولت کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے ایک نئی قانونی (اسٹیٹوٹری) اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں جواہرات کے شعبے کے فوائد و مسائل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں جواہرات کی برآمدات کی اصل صلاحیت سالانہ دو ارب ڈالر سے زائد ہے، تاہم طویل عرصے سے اس شعبے کے درست اعداد و شمار موجود نہیں۔
اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ غیر سائنسی طریقۂ کان کنی کے باعث 30 تا 40 فیصد قیمتی پتھر ضائع ہو جاتے ہیں، جبکہ بڑی مقدار خام شکل میں برآمد ہونے سے ویلیو ایڈیشن ممکن نہیں ہو پاتی۔
ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ جدید کان کنی ٹیکنالوجی سے پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پالیسی کے تحت نیشنل وارنٹی آفس، ہوائی اڈوں پر کمرشل ڈیسک، آسان رجسٹریشن، ڈیجیٹل بینکنگ اور بہتر کورئیر سہولیات کی تجاویز شامل ہیں۔
حکومت کا مقصد شعبے کو دستاویزی بنانا، برآمدات بڑھانا اور جواہرات کی صنعت کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانا ہے۔


Comments
Comments are closed.