BR100 Increased By (1.5%)
BR30 Increased By (1.4%)
KSE100 Increased By (1.33%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 57.80 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
BIPL 27.39 Increased By ▲ 0.50 (1.86%)
BOP 34.55 Increased By ▲ 0.86 (2.55%)
CNERGY 10.91 Increased By ▲ 0.30 (2.83%)
DFML 18.44 Increased By ▲ 0.39 (2.16%)
DGKC 212.87 Increased By ▲ 2.97 (1.41%)
FABL 101.98 Increased By ▲ 3.03 (3.06%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 1.01 (1.88%)
FFL 16.79 Increased By ▲ 0.33 (2%)
GGL 24.20 Increased By ▲ 0.38 (1.6%)
HBL 306.50 Increased By ▲ 4.08 (1.35%)
HUBC 222.15 Increased By ▲ 3.21 (1.47%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 30.08 Increased By ▲ 0.43 (1.45%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 1.09 (1.13%)
OGDC 322.19 Increased By ▲ 3.97 (1.25%)
PAEL 42.80 Increased By ▲ 1.03 (2.47%)
PIBTL 17.21 Increased By ▲ 0.40 (2.38%)
PIOC 302.75 Increased By ▲ 6.13 (2.07%)
PPL 223.87 Increased By ▲ 3.70 (1.68%)
PRL 52.50 Increased By ▲ 3.45 (7.03%)
SNGP 108.15 Increased By ▲ 2.02 (1.9%)
SSGC 29.69 Increased By ▲ 0.55 (1.89%)
TELE 8.98 Increased By ▲ 0.16 (1.81%)
TPLP 13.05 Increased By ▲ 0.54 (4.32%)
TRG 60.62 Increased By ▲ 0.40 (0.66%)
UNITY 10.19 Increased By ▲ 0.17 (1.7%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
دنیا

بنگلا دیش، حسینہ واجد کیخلاف بغاوت کی قیادت کرنے والے رہنما فائرنگ سے زخمی

  • حکومت کا زخمی رہنما کوعلاج کیلئے سنگاپور بھیجنے کا فیصلہ
شائع اپ ڈیٹ

بنگلادیش کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ 2024 کی بغاوت کے ایک رہنما اور آنے والے انتخابات کے امیدوار کو سنگاپور علاج کے لیے بھیجا جائے گا، جو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق طالب علم رہنما شريف عثمان ہادی کو جمعہ کے روز دارالحکومت ڈھاکہ میں مسجد سے نکلتے ہوئے نقاب پوش حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔

یہ حملہ اس اعلان کے ایک دن بعد ہوا کہ طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد ملک میں پہلی بار انتخابات کی تاریخ طے کر دی گئی ہے، جس نے شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کو ختم کیا تھا۔

اتوار دیر گئے جاری بیان میں عبوری حکومت نے کہا کہ شریف عثمان ہادی کو بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا جائے گا اور ایک “ایئر ایمبولینس اور ڈاکٹروں کی ٹیم اسٹینڈ بائی پر موجود ہے۔

شريف عثمان ہادی طالب علم احتجاجی گروپ انقلابی منچا کے سینئر رہنما ہیں اور بھارت کے خلاف کھل کر موقف رکھتے ہیں، جو حسینہ واجد کا پرانا اتحادی رہا ہے، جہاں سابق وزیراعظم خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔

پیر کو ڈھاکہ میں سیکڑوں مظاہرین شریف عثمان ہادی پر حملے کی شدید مذمت کے لیے جمع ہوئے۔

21 سالہ طالبہ غازی سعدیہ نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہمارے سیاسی یکجہتی پر حملہ ہے۔

شریف عثمان ہادی کی جماعت انقلابی منچا ریلی میں موجود تھی، جہاں بنگلادیش کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت جماعت اسلامی کے حامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے افراد بھی شریک تھے، جسے دیگر طالب علموں نے تشکیل دیا تھا جنہوں نے پچھلے سال کی بغاوت کی قیادت کی تھی۔

مظاہرین نے اس موقع پر طالب علموں کی قیادت میں جمہوری حقوق کی حفاظت اور سیاسی رہنماؤں کی جان و مال کے تحفظ پر زور دیا۔

یہ واقعہ ملک میں بڑھتی سیاسی کشیدگی اور آئندہ انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے مسائل پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.