کمپنیوں پر تعمیلی بوجھ میں کمی کیلئے کابینہ پینل کی 280 سے زائد ترامیم کی تجویز
- کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت فرسودہ قراردادوں اور منظوریوں کے طریقہ کار کو بھی سادہ بنانے کی سفارش
کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز کی ذیلی کمیٹی نے نجی شعبے کی کمپنیوں پر تعمیلی بوجھ کم کرنے کے لیے 280 سے زائد ترامیم تجویز کی ہیں، جبکہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت فرسودہ قراردادوں اور منظوریوں کے طریقہ کار کو بھی سادہ بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کا انکشاف وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان نے وزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا، جہاں ریگولیٹری اصلاحات کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص پورٹل ریجیمیٹر کا اجرا کیا گیا۔
کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز کے پینل کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے معاونِ خصوصی نے بتایا کہ نمایاں کامیابیوں میں کمپنیز ایکٹ 2017 کا جامع جائزہ، نجی شعبے پر تعمیلی بوجھ کم کرنے کے لیے 280 سے زائد مجوزہ ترامیم، اور پرانی قراردادوں و منظوریوں کو سادہ بنانا شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریگولیٹری اصلاحات پاکستان کی صنعتی مسابقت بحال کرنے اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو فعال بنانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
وزیرِ اعظم نے ریگولیٹری اصلاحات کی نگرانی اور معلومات کے تبادلے کے لیے پورٹل ریجیمیٹر کا افتتاح کیا اور اسے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی جانب ایک بڑی چھلانگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورٹل نہ صرف کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز سے منظور شدہ ہر اصلاح کے نفاذ کی نگرانی کرے گا بلکہ نجی شعبے کو رائے دینے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔
تقریب میں نائب وزیرِ اعظم، وفاقی وزرا، سرکاری و نجی شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی۔ برطانیہ کی وزیر برائے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ بیرونس جینیفر چیپ مین بھی تقریب کی اہم مقررین میں شامل تھیں۔
وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ عالمی سطح پر مسابقت کے لیے پاکستان کو تمام ریگولیٹری عمل میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے ایف سی ڈی او کے ریونیو موبلائزیشن، انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ پروگرام کے ذریعے اصلاحاتی ایجنڈے اور ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری کے لیے برطانیہ کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔
تقریب کے دوران وزیرِ اعظم نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی قیادت کی تعریف کی، جو ریگولیٹری ماڈرنائزیشن اور تبدیلی میں پیش پیش ہیں۔ برطانیہ کی وزیر جینیفر چیپ مین نے بھی پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ادارہ جاتی مضبوطی، ریگولیٹری معیار اور معاشی ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.