امریکا نے افغان پاسپورٹ پر ویزے جاری کرنے کی کارروائی روک دی
- تمام پناہ گزین درخواستوں کو معطل کر دیا ہے تاکہ ہر غیر ملکی کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے، حکام
واشنگٹن میں ایک افغان شہری کے مبینہ طور پر دو نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے امیگریشن مخالف موقف کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ نے تمام پناہ گزین درخواستوں کو معطل کر دیا ہے۔
بدھ کے روز ہونے والے اس حملے میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئی، جس نے امریکہ میں غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کی تازہ لہر کو جنم دیا۔ صدر ٹرمپ نے ”تیسری دنیا کے ممالک“ سے امیگریشن کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا کہ ان کی ایجنسی نے تمام پناہ گزین درخواستوں کو معطل کر دیا ہے تاکہ ہر غیر ملکی کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔
ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ 19 ممالک بشمول افغانستان، کیوبا، ہیٹی، ایران اور میانمار پہلے ہی جون سے امریکہ میں سفر پر پابندی کے تحت ہیں۔
سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی حکومت نے افغان پاسپورٹ رکھنے والے تمام افراد کے ویزے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی اولین ترجیح اپنی قوم اور عوام کی حفاظت ہے۔
حملے کے مبینہ ملزم رحمان اللہ 29 سالہ افغان شہری کو وائٹ ہاؤس کے قریب چند بلاکس پر نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ 2021 میں امریکی فوجی انخلاء کے بعد دوبارہ آبادکاری پروگرام کے تحت امریکہ آئے تھے۔
واشنگٹن ڈی سی کی امریکی پراسیکیوٹر جینین پیرو نے کہا کہ رحمان اللہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ زخمی ہونے والی 20 سالہ ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کی اہلکار سارہ بیکسٹرم اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئیں۔


Comments
Comments are closed.