طلبہ کیخلاف خونی کریک ڈاؤن، سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی گئی
- یہ فیصلہ کئی دہائیوں بعد کسی سابق بنگلہ دیشی حکمران کے خلاف سب سے بڑا عدالتی اقدام ہے
بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی خصوصی عدالت نے پیر کے روز سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنادی، جس کے ساتھ ہی گزشتہ برس طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے خلاف خونی کریک ڈاؤن سے متعلق مہینوں طویل مقدمے کا فیصلہ سامنے آگیا۔ یہ فیصلہ کئی دہائیوں بعد کسی سابق بنگلہ دیشی حکمران کے خلاف سب سے بڑا عدالتی اقدام ہے اور وہ بھی ایسے موقع پر جب ملک میں آئندہ عام انتخابات فروری کے اوائل میں متوقع ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پہلے ہی انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دی جاچکی ہے، اور تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ پیر کے فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی بے چینی اور احتجاجی لہر مزید بڑھ سکتی ہے۔ ڈھاکا میں قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سخت سیکیورٹی کے درمیان فیصلہ سنایا، جبکہ حسینہ واجد خود عدالتی کارروائی میں موجود نہیں تھیں کیونکہ وہ اگست 2024 میں بھارت فرار ہوگئی تھیں۔ عدالت نے انہیں انسانیت کیخلاف جرائم کے تحت عمر قید اور طلبہ مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کے قتل کے الزامات پر سزائے موت سنائی۔
فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد عدالت میں موجود بعض افراد نے تالیاں بجائیں، جس سے ماحول مزید تناؤ کا شکار ہوگیا۔ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے، تاہم حسینہ کے بیٹے اور مشیر سجیِب واجد نے فیصلے سے ایک روز قبل رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپیل اسی وقت کریں گے جب ملک میں عوامی لیگ کی شمولیت کے ساتھ ایک جمہوری حکومت قائم ہوگی۔
1971 کے بعد بدترین تشدد
استغاثہ نے ٹرائل کے دوران عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ حسینہ واجد نے خود 2024 کے جولائی اور اگست میں ہونے والی طلبہ تحریک کو کچلنے کے لیے براہ راست مہلک طاقت استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 15 جولائی سے 5 اگست 2024 کے درمیان ہونے والے احتجاج میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ یہ واقعہ 1971 کی جنگِ آزادی کے بعد ملک میں بدترین خونریزی قرار دیا جا رہا ہے۔
حسینہ واجد کو ایک سرکاری وکیل نے عدالت میں دفاع فراہم کیا، جس کا مؤقف تھا کہ ان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں بری کیا جانا چاہیے۔ لیکن حسینہ واجد نے فیصلے سے قبل ہی عدالت اور کارروائی کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہے۔
فیصلے سے قبل ملک میں سیاسی فضا خاصی کشیدہ رہی، جہاں گزشتہ چند روز میں کم از کم 30 بم دھماکے اور 26 گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
سیاسی انتقام قرار
78 سالہ سابق وزیراعظم جو اگست 2024 سے بھارت میں رہائش پذیر ہیں، نے گزشتہ ماہ رائٹرز کو ایک ای میل انٹرویو میں مقدمے کو سیاسی انتقام پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے تماشہ اور عدالتوں کو کینگرو کورٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مناسب قانونی دفاع کا موقع نہیں دیا گیا اور نہ ہی سماعتوں کے لیے مناسب نوٹس فراہم کیا گیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ کسی بھی مرحلے پر مہلک طاقت کے استعمال کی ہدایات دینے میں ملوث تھیں۔
مُلک اس وقت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت کے زیرِ انتظام چل رہا ہے۔ اگرچہ عمومی امن بحال ہوچکا ہے، مگر سیاسی عدم استحکام برقرار ہے اور ماہرین کے مطابق حسینہ واجد کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد آنے والے ہفتوں میں حالات مزید غیر یقینی ہوسکتے ہیں۔


Comments
Comments are closed.