روس کا میگ-31 طیارہ چرانے کی برطانوی اور یوکرینی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ
- روسی پائلٹس کو 3 ملین ڈالر کے عوض ایک میگ-31 طیارہ چرانے کی ترغیب دی جانی تھی، میڈیا
روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے منگل کو ریاستی میڈیا کے مطابق بتایا کہ اس نے یوکرینی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کی ایک سازش ناکام بنا دی، جس میں روسی پائلٹس کو 3 ملین ڈالر کے عوض ایک میگ-31 طیارہ چرانے کی ترغیب دی جانی تھی، جو کنژل ہائپر سونک میزائل سے لیس تھا۔
ریا نیوز ایجنسی کے مطابق ایف ایس بی نے کہا کہ اس طیارے کو رومانیا کے شہر کانستانٹا میں نیٹو کے ہوائی اڈے کی جانب لے جایا جانا تھا، جہاں ہوائی دفاع کے ذریعے اسے مار گرایا جا سکتا تھا۔ ایف ایس بی، جو سوویت دور کے کے جی بی کی سب سے بڑی جانشین ایجنسی ہے، نے کہا کہ یوکرین اور برطانیہ نے اس طیارے کا استعمال کرتے ہوئے ایک بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی کی منصوبہ بندی کی تھی، اور یوکرینی فوجی خفیہ ایجنسی نے روسی پائلٹس کو 3 ملین ڈالر دے کر لڑاکا طیارہ چرانے کی کوشش کی تھی۔
ایف ایس بی نے بتایا کہ متعلقہ اقدامات نے یوکرینی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
ریاستی ٹی وی نے ایک شخص کے پیغامات اور ریکارڈنگز کی تصاویر دکھائیں، جس پر الزام تھا کہ وہ یوکرینی اور برطانوی خفیہ اداروں کے لیے کام کر رہا تھا اور روسی پائلٹ کو یورپ لے جانے کے لیے 3 ملین ڈالر پیش کیے گئے، ساتھ ہی اس پائلٹ کو شہریت کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔
روس کے کنژل میزائل کو ہائپر سونک کہا جاتا ہے، یہ انتہائی تیز رفتار اور پیچیدہ پرواز کے راستوں کے قابل ہے تاکہ ہوائی دفاع کے لیے ٹریک اور انٹرسیپٹ کرنا مشکل ہو۔
روس طویل عرصے سے برطانیہ کو اپنا بنیادی دشمن قرار دیتا رہا ہے اور لندن پر یوکرین جنگ کو ہوا دینے اور روس میں کارروائیاں کرنے میں مدد دینے کا الزام عائد کرتا ہے، جبکہ برطانیہ روسی حملے کو امپیریل انداز میں زمین ہڑپنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔


Comments
Comments are closed.