حکومت سے انکریمنٹل پاور پیکیج پر نظرثانی کا مطالبہ
- منصوبے سے سبسڈی کی ضرورت میں 300 ارب روپے تک کمی ممکن ہے لیکن صنعتوں پر اب بھی زائد کراس سبسڈی کا بوجھ موجود ہے، ایف پی سی سی آئی
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)، کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) اور بن قاسم ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (بی کیو اے ٹی آئی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم کے مجوزہ انکریمنٹل پاور پیکیج پر نظرثانی کرتے ہوئے انکریمنٹل ٹیرف کی شرح 22.98 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 16 روپے فی یونٹ مقرر کی جائے۔ نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) منگل 11 نومبر کو اس پیکیج پر عوامی سماعت کرے گی، جسے وفاقی کابینہ پہلے ہی منظور کرچکی ہے۔
فیڈریشن اور اور تجارتی تنظیموں نے نیپرا کے رجسٹرار کو بھیجے گئے علیحدہ خطوط میں کہا کہ پاور ڈویژن کا منصوبہ صنعت و زراعت کے شعبوں کے لیے ٹیرف میں کمی لانے کا ہے، تاہم اس عمل میں شفاف اور منصفانہ طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔
ایف پی سی سی آئی نے موقف اختیار کیا کہ مجوزہ پیکیج سے سبسڈی کی ضرورت میں تقریباً 300 ارب روپے تک کمی ممکن ہے، مگر صنعتوں پر اب بھی 131 ارب روپے کا کراس سبسڈی بوجھ موجود ہے، جو نیپرا کے اپنے تخمینوں کے مطابق ہے۔ ادارے نے کہا کہ اگر مالی گنجائش پیدا ہوچکی ہے تو اسے عدم مساوات ختم کرنے میں استعمال کیا جانا چاہیے، کیونکہ زیادہ تر سولر اور پروٹیکٹڈ صارفین پہلے ہی عام ٹیرف ڈھانچے سے باہر جاچکے ہیں، جس کے باعث صنعتیں اپنی لاگت سے کہیں زیادہ ادائیگیاں کررہی ہیں۔
ایف پی سی سی آئی نے نشاندہی کی کہ حالیہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس اور فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹس کے باعث صنعتی ٹیرف تقریباً 34 روپے سے بڑھ کر 38 روپے فی یونٹ تک جا پہنچا ہے، اس لیے 22.98 روپے کا انکریمنٹل ریٹ حقیقی ریلیف فراہم نہیں کرتا۔ اس تناظر میں نیپرا سے مطالبہ کیا گیا کہ انکریمنٹل شرح 16 روپے فی یونٹ مقرر کی جائے تاکہ برآمدی مسابقت بحال ہو اور بجلی کے استعمال میں پائیدار اضافہ ممکن ہو۔
ادارے نے موجودہ بینچ مارکنگ رولز پر بھی اعتراض کیا، جن میں 60 فیصد لوڈ فیکٹر، نئی کیٹیگریز کو نئے صارف کے طور پر شمار کرنا اور 2.8 فیصد سالانہ اضافے کا عنصر شامل ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے مطابق یہ شرائط پیچیدگی اور عدم مساوات کا باعث بن رہی ہیں۔
فیڈریشن نے تجویز دی کہ لوڈ فیکٹر یا بیس لائن کا تعین گزشتہ تین مالی سالوں کی تصدیق شدہ کھپت کے اوسط وزن کے مطابق کیا جائے، یعنی 2024–25 کا 50 فیصد، 2023–24 کا 30 فیصد اور 2022–23 کا 20 فیصد اس طریقہ کار سے تمام صارفین بشمول کیپٹو، نان کیپٹو، لوڈ ایکسٹینشن اور کیٹیگری تبدیلی والے کیسز ایک ہی اصول کے تحت آئیں گے، جس سے شفافیت اور مساوات کو فروغ ملے گا۔
ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ اس فارمولے سے اُن صنعتوں کو بھی انصاف ملے گا جو گیس لیوی کے بعد گرڈ سے بجلی لینے پر منتقل ہوچکی ہیں۔ ساتھ ہی، مقررہ ریفرنس پیریڈ (دسمبر 2023 تا نومبر 2024) کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مؤثر صنعتوں کو نقصان اور کم کارکردگی والے یونٹس کو فائدہ دیتا ہے۔
ایف پی سی سی آئی نے زور دیا کہ پیکیج کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے طریقہ کار سادہ، قابل تصدیق اور شفاف ہونا چاہیے، جبکہ تجویز کردہ تین سالہ اوسط وزن والا فارمولا نیپرا اور صارفین دونوں کے لیے پیش گوئی کے قابل نظام فراہم کرتا ہے۔
تجارتی برادری نے خبردار کیا کہ اگر پیکیج کو موجودہ شکل میں نافذ کیا گیا تو یہ حکومت اور صنعت، دونوں کی توقعات پوری نہیں کرسکے گا کیونکہ اس کی ساخت زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ادارے نے کہا کہ نیپرا اور وزارت توانائی کو اس نظرثانی شدہ فارمولے کو اپنانا چاہیے تاکہ یہ پیکیج حقیقی معنوں میں صنعتی بحالی کا ذریعہ بن سکے۔
ایف پی سی سی آئی نے آخر میں کہا کہ اصلاحات کی کامیابی کا پیمانہ صرف وقتی مالی بچت نہیں بلکہ مسابقت اور پیداواری ترقی ہے، جو منصفانہ ٹیرف پالیسی اور صنعتی نمو سے ہی ممکن ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.