اوچ پاور کمپنیوں کی ادائیگی، سی پی پی اے-جی او جی ڈی سی ایل کو 89.5 ارب روپے ادا کرے گا
- یہ رقم گردشی قرضہ فنانسنگ سہولت کے تحت دی جائے گی
وفاقی حکومت نے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں کمی اور مالی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (گارنٹیڈ) یعنی سی پی پی اے-جی، او جی ڈی سی ایل کو اوچ پاور لمیٹڈ اور اوچ پاور-ٹو کی جانب سے 89.5 ارب روپے کی ادائیگی ایک ہی قسط میں کرے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ رقم گردشی قرضہ فنانسنگ سہولت کے تحت دی جائے گی، اور یہ فیصلہ 18 ماہ کی مساوی اقساط کے بجائے ایک مرتبہ میں ادائیگی کے طور پر کیا گیا ہے۔
یہ اقدام اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری کے بعد پاور ڈویژن کی سمری کے تحت کیا گیا ہے، جو نیوکلئیر پاور پلانٹس کے ٹیرف میں نرمی اور ایل پی آئی میں کمی کے عنوان سے پیش کی گئی تھی۔ وزیرِاعظم کی ہدایت پر 4 اگست 2024 کو پاور سیکٹر میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی، جس نے بجلی کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے نیوکلئیر پاور پلانٹس کے ٹیرف میں ممکنہ کمی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ٹاسک فورس نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے ساتھ کئی مراحل پر مذاکرات کے بعد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو حتمی شکل دی، جن کے تحت ٹیرف میں تخفیف کے ساتھ حکومت کی طرف سے مختلف سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق، بجلی خریدار نے 31 دسمبر 2024 تک کے واجبات کی ادائیگی 316.937 ارب روپے کے طور پر قبول کی، جبکہ پی اے ای سی نے اس تاریخ تک واجب الادا سود (لیٹ پیمنٹ انٹرسٹ) سے دستبرداری اختیار کی۔ مزید یہ کہ یکم جنوری 2025 سے تاخیر سے ادائیگی کی شرح تین ماہ کے کائیبور پلس ایک فیصد سالانہ مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے نیوکلئیر پاور پلانٹس سمیت سرکاری بجلی گھروں کو مجموعی طور پر 614.92 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، تاہم 31 جولائی 2025 تک 150 ارب روپے کے واجبات بدستور باقی تھے۔ مستقبل میں ان ادائیگیوں کے لیے گردشی قرضہ فنانسنگ سہولت سے مزید فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
سی پی پی اے-جی کو اس فنانسنگ سہولت سے 683.253 ارب روپے کے قرضے کی ادائیگی کے لیے بھی اجازت دی گئی تھی جو پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے ذمے تھے۔ اس دوران 23.6 ارب روپے کے قرضے کی ادائیگی جولائی 2025 میں پاور ڈویژن کے ذریعے کی گئی تاکہ ڈیفالٹ سے بچا جا سکے۔
ٹاسک فورس نے مزید بتایا کہ نیوکلئیر پاور پلانٹس، نندی پور اور قائداعظم تھرمل پاور سمیت تین بجلی گھروں نے 31 دسمبر 2024 تک لیٹ پیمنٹ انٹرسٹ کے تمام دعوے واپس لے لیے ہیں، جس کی کل مالیت 119.53 ارب روپے بنتی ہے۔
وفاقی کابینہ نے اپنے فیصلے میں او جی ڈی سی ایل کی جانب سے اوچ پاور لمیٹڈ اور اوچ-ٹو پاور لمیٹڈ کے لیے 54 ارب روپے کے ایل پی آئی کی معافی اور 31 دسمبر 2024 تک کے واجب الادا 89.5 ارب روپے کی رقم کی ادائیگی کی منظوری دی تھی۔ پہلے یہ رقم 18 ماہ میں قسطوں میں ادا ہونی تھی، تاہم او جی ڈی سی ایل کی مالی مشکلات اور دستیاب گردشی قرض فنانسنگ سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ ادائیگی ایک ہی بار میں کی جائے گی۔
مزید برآں، کابینہ نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے لیے 68.6 ارب روپے کے واجب الادا سود کی معافی کی بھی منظوری دی ہے، جو ایل این جی سپلائی سے متعلق معاملات پر لاگو ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیک اور پے تنازعے کو حل کرتے ہوئے ایل این جی سپلائی کا کم از کم تناسب 66 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹاسک فورس نے سفارش کی ہے کہ ایل این جی لاگت میں 21.9 ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ اوگرا کے ذریعے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے لاگو کی جائے، تاہم اوگرا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس ایڈجسٹمنٹ سے صارفین کے لیے ایل این جی کی قیمت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اوگرا آرڈیننس 2002 کی دفعہ 21 کے تحت پالیسی گائیڈ لائن جاری کرے تاکہ یہ ایڈجسٹمنٹ قانونی طور پر لاگو کی جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.