وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کر لیا
- وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی
وفاقی کابینہ نے ہفتہ کو 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کر لیا، جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور قانونی حلقوں کی شدید تنقید کے باوجود حکومت نے بل کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں وہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے ہمراہ سرکاری دورے پر موجود تھے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ترمیم کو صوبوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے اور قومی مفاد میں ایک اہم اقدام قرار دیا۔
وزیراعظم نے وزارت قانون و انصاف کے تحت وزیر اعظم کے معاون، اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل کے دفتر کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے بل کی تیاری میں بہترین کام کیا۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ ن کے صدر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے رہنمائی لی، جبکہ اتحادی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے خالد مقبول صدیقی کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔
کابینہ کی منظوری کے بعد حزب اختلاف نے فوری طور پر اس اقدام کی مذمت کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کا مقصد آئینی شفافیت کے بجائے سیاسی ہم آہنگی حاصل کرنا زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں نے بھی عمل میں تیزی اور عوام و پارٹیوں سے مشاورت نہ کرنے پر تنقید کی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم نے بل کی منظوری سے پہلے اتحادی جماعتوں سے رائے حاصل کی تاکہ وسیع حمایت حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس میں صوبوں کی مساوی نمائندگی ہوگی اور چیف جسٹس کی مدت تین سال مقرر ہوگی۔ ہائی کورٹ کے ججز کی تبادلہ کاری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی نگرانی میں ہوگی، اور دونوں متعلقہ عدالتوں کے چیف جسٹس اس عمل میں شامل ہوں گے۔
ترمیم کے تحت آرٹیکل 243 میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ آئینی ترمیم میں عدلیہ کی ساخت میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت سپریم کورٹ کے بعض اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فوج کے کمانڈ سٹرکچر کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
کابینہ کی منظوری کے بعد بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور توقع ہے کہ قومی اسمبلی میں پیر کے روز پیش کیا جائے گا۔ وفاقی کابینہ کا موقف ہے کہ یہ ترمیم ملک میں سیاسی، عدالتی اور فوجی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور صوبوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.