یوکرینی ڈرون حملے سے روس کے علاقے باشکورستان میں واقع اسٹیرلیٹاماک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں واٹر ٹریٹمنٹ سہولت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ علاقائی حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کو پیش آیا۔
باشکورستان کے سربراہ ریڈی خبیروف نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ یہ پلانٹ یوکرین کی سرحد سے تقریباً 1,500 کلومیٹر دور یورال پہاڑوں میں واقع ہے اور واقعے کے باوجود معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رات گئے حملے میں استعمال ہونے والے دونوں ڈرون تباہ کر دیے گئے۔
روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں بتایا کہ باشکورستان کے علاوہ سات دیگر علاقوں میں 83 یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے۔ وزارت کے مطابق، فضائی دفاعی نظام نے حملے کے دوران کسی بڑے نقصان کو روکا۔
اسٹیرلیٹاماک شہر کی انتظامیہ نے کہا کہ پلانٹ میں موجود پانچوں کارکن محفوظ رہے اور کسی کو چوٹ نہیں آئی۔
دوسری جانب، یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم، کیف نے حالیہ مہینوں میں روس کے اندر تیل صاف کرنے والے کارخانوں، گوداموں اور سپلائی مراکز پر ڈرون و میزائل حملوں میں اضافہ کیا ہے، جنہیں وہ کریملن کی جنگی مشین کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی قرار دیتا ہے۔
روس نے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیا ہے، جب کہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ یہ فروری 2022 میں روس کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے خلاف خود کے دفاع کا جائز حق ہے۔


Comments
Comments are closed.